4

پاکستان کی سمندری معیشت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے: افتخار راؤ

(24نیوز)چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس افتخار راؤ نے کہا ہے کہ دنیا کی تقریباً 80 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، اسی لیے وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کے میری ٹائم شعبے میں جامع اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ شپ بلڈنگ، شپنگ اور بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کی میری ٹائم ٹاسک فورس کی کامیابیوں سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس افتخار راؤ نے کہا کہ پاکستان کی سمندری معیشت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 80 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف سفارشات تو تیار کی جاتی تھیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا تھا۔ اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی امپلیمنٹیشن کمیٹی قائم کی گئی، جو اب تک 13 اجلاس اور 15 فوکس گروپ میٹنگز کر چکی ہے،قومی سطح پر بندرگاہوں کا جامع ماسٹر پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ تمام بندرگاہیں مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔

افتخار راؤ نے کہا کہ کسٹمز، ٹرمینل آپریٹرز، پلانٹ پروٹیکشن، کوالٹی کنٹرول اور دیگر اداروں کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں، جدید کنٹینر اسکینرز نصب کیے جا رہے ہیں، کسٹمز کے عملے اور آپریشنل اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے بندرگاہوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کا نیا وار۔۔! آٹا 145 روپے کلو، شہریوں کی مشکلات بڑھ گئیں

انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی عالمی درجہ بندی ایک سال میں 30 درجے بہتر ہو کر 99 سے 69 پر آ گئی ہے، جبکہ پورٹ قاسم کی رینکنگ میں بھی 18 درجے بہتری آئی ہے، اس کے علاوہ پورٹ قاسم دنیا کی سب سے زیادہ بہتری دکھانے والی بندرگاہوں کی فہرست میں شامل ہو چکی ہے۔

چیئرمین میری ٹائم ٹاسک فورس نے کہا کہ کراچی شپ یارڈ میں دفاعی بحری جہاز، فریگیٹس اور میزائل کرافٹس کی تیاری کامیابی سے جاری ہے، جبکہ کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ کمرشل کنٹینر شپ کی تعمیر بھی شروع ہو گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے لیے کنٹینر جہاز کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے اور اس منصوبے کی لاگت بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں کئی ملین ڈالر کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارہ ہے، تاہم ماضی میں بھاری ٹیکسوں کے باعث نجی شعبہ شپنگ میں سرمایہ کاری سے گریز کرتا رہا، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ٹائم ٹاسک فورس کی سفارشات اور وزارت خزانہ کے تعاون سے وفاقی بجٹ میں جہازوں اور شپ بلڈنگ کے سامان پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جس سے شپنگ اور شپ بلڈنگ کی صنعت کو فروغ ملے گا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور پاکستانی جہاز مالکان کو بیرون ملک رجسٹریشن کے بجائے پاکستان میں رجسٹریشن کی ترغیب ملے گی۔

مزید پڑھیں:کروشیا کے وزیر خارجہ پہلی بار ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

افتخار راؤ نے کہا کہ جاری اصلاحات سے نہ صرف بندرگاہوں کی استعداد اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان علاقائی تجارت اور بلیو اکانومی کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر بھی ابھرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں