
(احتشام کیانی )اسلام آباد ہائیکورٹ نے مفاد عامہ کی درخواست پر موبائل کمپنیز اور پی ٹی اے سے جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ اور ضلعی عدالتوں میں موبائل نیٹ ورکس کی کمزور سروس اور اس کے باعث سائلین کو درپیش مشکلات کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی درخواست پر موبائل کمپنیوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے جواب طلب کر لیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی درخواست پر حکم جاری کیا،سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، پی ٹی اے،اور تمام موبائل کمپنیز کو نوٹس جاری کیاگیاہے۔
عدالت کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہاگیاہے کہ درخواست گزار نے عدالت میں مفاد عامہ کا اہم سوال اٹھایا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ اعلیٰ عدلیہ اور ضلعی عدالتوں کے احاطے میں موبائل نیٹ ورک کا نظام ٹھیک نہیں، عدالتوں میں موبائل نیٹ ورک سگنل بہت کمزور ہے یا بالکل سروس نہیں آتی،وکلاء اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،کورٹ کے دوران فوری رابطہ نہیں ہو پاتا۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ آن لائن قانونی معلومات اور کورٹ سے متعلق معاملات تک رسائی نہیں ہو پاتی،عدالتوں کا کام سست ہو رہا ہے انصاف کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر ہو رہی ہے، درخواست میں اٹھائے نکات قابلِ غور ہیں ،اسٹیٹ اور پرائیویٹ فریقین کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے، اسٹیٹ کونسل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے حکومت کی طرف سے نوٹس وصول کر لیا۔
حکم نامہ کے مطابق آفس کو ہدایت ہے کہ پرائیویٹ فریقین کو سرکاری خرچ پر نوٹس بھیجیں رپورٹس اور پیراوائز کمنٹس طلب کریں۔
یہ بھی پڑھیں:فارن فنڈنگ کیس؛چالان کی اسکروٹنی مکمل، سماعت ملتوی
جوڈیشل ایکٹیوزم کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کیس کی پیروی کی۔