
(24نیوز) قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے لیاری ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا-اجلاس میں این ایچ اے کے حکام نے بتایا کہ کوریائی کمپنی نے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 164 ارب روپے لگایا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا تخمینہہ 88 ارب روپے تھا۔ این ایچ اے کے مؤقف کے برعکس کے پی ٹی حکام نے بتایا کہ کوریائی فریق نے منصوبے کی مجموعی لاگت 300 ارب روپے ظاہر کی ہے جبکہ این ایچ اے کے مطابق موجودہ تخمینہ تقریباً 120 ارب روپے ہے۔
سٹینڈنگ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا یہ اجلاس کا اجلاس چیئرمین مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بتایا گیا کہ کوریا کی کنسٹرکشن کمپنی نے منصوبے میں سٹیل پل کی تعمیر کی تجویز بھی دی تھی۔
جاوید حنیف نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی پورٹ سے ایم-9 موٹر وے تک رابطے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کوریا سے صرف قرض لیاجائے،تعمیراتی کام مقامی سطح پر کرایا جائے کیونکہ پاکستان کی لاگت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اپنے وسائل سے تین سال میں منصوبہ مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ان کے مطابق کے پی ٹی پہلے بھی اپنے 150 ارب روپے سے بندرگاہ کے مختلف منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ک
کے پی ٹی حکام نے بتایا کہ کوریائی فریق نے منصوبے کی مجموعی لاگت 300 ارب روپے ظاہر کی ہے جبکہ این ایچ اے کے مطابق موجودہ تخمینہ تقریباً 120 ارب روپے ہے۔ستینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ کراچی ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کراچی شہر کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رات کے وقت کنٹینرز کی آمدورفت شہریوں کے لیے شدید مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ اس لیے منصوبے کی جلد تکمیل ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: دہشتگردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، مسلح افواج کے ترجمان کا اعلان
سیکرٹری اقتصادی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کے لیے قرض کراچی پورٹ ٹرسٹ نے لینا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر کے پی ٹی خود منصوبہ مکمل نہیں کر سکتی تو اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا پی ایس ڈی پی کے ذریعے مکمل کرنے کی تجویز دی جائے۔
سٹینڈنگ کمیٹی نے سیکرٹری اقتصادی امور کو ہدایت کی کہ وہ وزارت منصوبہ بندی، این ایچ اے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ مشاورت کرکے منصوبے کے مالی اور انتظامی معاملات جلد از جلد حل کریں تاکہ اس اہم منصوبے پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات امریکہ ایران کے بجلی پلانٹس پر حملے کرے گا، ٹرمپ نے خرگ پر قبضہ کرنے کا پلان بھی بتادیا