1

مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، اپنی تباہ کن معاشی پالیسیوں کا حساب دیں، سعدیہ جاوید

(24نیوز) سندھ حکومت نے  کراچی سے متعلق اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سروے کو مکمل مسترد کرتے  ہوئے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے آج عوام پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کے ردعمل مین کہا کہ  مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، وہ اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں۔

 سعدیہ جاوید نے مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی سے متعلق عالمی رپورٹ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سروے کو مکمل مسترد کرتی ہے۔ اس کاغذی انڈیکس اور زمینی حقائق میں فرق ہے، عالمی اداروں کے ایسے سروے اور رپورٹیں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اکانومسٹ نے “رہنے کے قابل” شہروں کی ایک لسٹ شائع کی جس مین کراچی کو بہت نچلے نمبروں میں دکھایا گیا۔ اس فہرست میں کراچی کو نچلا نمبر دیئے جانے کا حوالہ دے کر مسلم لیگ ن چھوڑ کر نئی پارٹی بنا لینے والے تاجر اور معیشت دان مفتاح اسماعیل نے پاکستان پیپلز پارٹی پر الازامات عائد کئے کہ کراچی کو رہنے کے قابل شہروں کی فہرست مین بہت نیچے اس لئے جگہ دی گئی کہ اٹھارہ سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ 

کراچی پر پیپلز پارٹی کی حکومت کب سے ہے؟

یہ امر دلچسپ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی  1967 میں بننے کے بعد سے کبھی کراچی شہر میں اقتدار میں نہیں رہی۔ پیپلز پارٹی کو پہلی مرتبہ تین سال پہلے کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) پر کنٹرول حاصل ہوا جب پارٹی کی پہلی منتخب بلدیاتی حکومت نے  19 جون 2023 سکو شہر کا انتظام سنبھالا۔تب سے  نوجوان  بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے میئر  ہیں۔
جہاں تک ماضی کا تعلق ہے، شہر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کراچی میونسپل کارپوریشن پر باقاعدہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کا منتخب میئر اور بلدیاتی حکومت آئی ہے۔ اس سے قبل پی پی پی کبھی  کراچی میں اپنی بلدیاتی حکومت قائم نہیں کر سکی۔

مفتاح اسماعیل کی تنقید کے جواب میں سندھ حکومت کی خاتون ترجمان نے کہا کہ  کراچی ملک کا معاشی  مرکز ہے اور رہے گا، جب سے پیپلز پارٹی نے کراچی کا انتظام سنبھالا ہے، شہر برق رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔  منفی پروپیگنڈا کرنے والے ناکام ہوں گے۔مفتاح اسماعیل پریس کلب میں بیٹھ کر پوائنٹ سکورنگ کرنے کے بجائے تعمیری سیاست کریں۔  کراچی کے عوام جانتے ہیں کہ شہر کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر پر پیپلز پارٹی کا کام بول رہا ہے۔ 

سعدیہ جاوید نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ کی کی حیثیت سے مفتاح اسماعلی کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج بھی مہنگائی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ سندھ حکومت اپنے فنڈز کا بہترین استعمال کر رہی ہے۔ الزام تراشی مفتاح اسماعیل کا پرانا مشغلہ ہے، بجلی کے بلوں پر سیاست چمکانے والے بتائیں کہانہوں نے خود اپنے اقتدار میں عوام کو کیا ریلیف دیا تھا؟ مفتاح اسماعیل صرف سستی شہرت کے لیے پریس کانفرنسز کا سہارا لے رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  مفتاح اسمعیل کے کراچی میں یونیورسٹی روڈ مکمل نہ ہونے پر پیپلز پارٹی پر کرپشن کے الزامات 

  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں