
(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر نند نے بھابھی کو بھائی کے بارے میں طنزیہ جملہ کہنے پر مبینہ طور پر چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمہ نے قتل کی واردات چھپانے کے لیے بھابھی کی لاش گھر کے باہر پانی کی ٹنکی میں پھینک دی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ وندنا نے 11 اگست کو خاندان کی مخالفت کے باوجود اپیندر سے مندر میں شادی کی تھی، خاندانی اختلافات کے باعث دونوں الگ کرائے کے مکان میں رہنے لگے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ پاروتی بائی کشواہا (نند) کا غیر شادی شدہ بھائی زیادتی کے مقدمے میں جیل میں قید ہے، رکشا بندھن کے روز وندنا نے مبینہ طور پر پاروتی کے بھائی کے بارے میں طنزیہ تبصرہ کیا جس پر دونوں میں تلخ کلامی ہو گئی۔
مزید پڑھیں:بھارتی پائلٹ کا انوکھا کارنامہ ، نیا طیارہ کھمبے سے ٹکرا دیا
بات بڑھنے پر پاروتی نے مبینہ طور پر غصے میں آ کر وندنا کی گردن پر چاقو کے 2 وار کیے جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئی،ملزمہ نے لاش گھسیٹ کر گھر سے باہر نکالی اور پانی کی ٹنکی میں پھینک دی۔
واردات کے وقت ملزمہ کے بچے سکول میں تھے جبکہ اس کا شوہر ہسپتال میں زیرِ علاج تھا، واردات کے بعد پاروتی اپنے شوہر سے ملنے ہسپتال چلی گئی تھی۔
ملزمہ وندنا کے لاپتہ ہونے پر اہلِ خانہ نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے علاقے میں نصب نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کی جانچ کی جس کے بعد تفتیش کا رُخ پاروتی کی جانب ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ پاروتی نے ابتداء میں تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاہم مسلسل پوچھ گچھ کے دوران وہ زیادہ دیر جھوٹ پر قائم نہیں رہ سکی۔
پولیس نے ملزمہ کو بتایا کہ قتل میں استعمال ہونے والے چاقو سے انگلیوں کے نشانات ملے ہیں اور اس کے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے جس کے بعد پاروتی نے مبینہ طور پر قتل کا اعتراف کیا جبکہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔






