1

دہشتگردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے مسلح افواج کے ترجمان کا اعلان

(24نیوز)  افواج پاکستان کے ترجمان  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے  کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی میں وہ ممالک شامل ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔ ۔ ان دہشتگردوں کو افغانستان پر قابض طالبان رجیم کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اب ہم نے دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا تو انہوں نے  18 پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ زیارت میں بلوچستان پولیس کے دلیر اہلکاروں نے  کم از کم 15 دہشتگرد ہلاک کئے۔   ہم دہشتگردوں کو ہرجگہ نشانہ بنائیں گے۔ گزشتہ چار  دنوں میں تین بڑے واقعات ہوئے، جن میں شہریوں سمیت  42 افراد شہید ہوئے۔  فتنہ الخوارج نے معصوم لوگوں پر حملہ کیا، 

مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آج  آئی ایس پی آر  ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے، جو کوئی بھی دہشتگردوں کا مددگار ہو گا، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا، یہ دہشتگردی کون کروا رہا ہے، اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، ہم جانتے ہیں، یہ بھارت ہے، اور یہ وہ ملک ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔

احمد شریف چوہدری نے کہا دہشتگرد  جہاں بھی ہو گا ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔  ان کے پیچھے افغانستان کی طالبان رجیم ہے۔ افغانستان کی زمین دہشتگردوں کو پناہ دینے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔  ہم دہشتگردوں کا پیچھا کریں گے۔

27 کے بدلے 54!

آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےبتایا کہ زیارت میں پولیس کےبہادرجوانوں نےدہشتگردوں کوکیفرکردارتک پہنچایا۔ سیکیورٹی فورسزنےدہشتگردوں کا پیچھا کیا۔ 

مجموعی طور پر  27 پولیس اہلکار شہید ہوئے ۔ شہریوں اور پولیس اہلکاروں کو ملا کر کل 42 افراد شہید ہوئے۔صرف زیارت میں بلوچستان پولیس کے  18 دلیر اہلکار شہید ہوئے۔ زیارت میں کم از کم 15 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔  اور ہم نے مجموعی طور پر  54 دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔

جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ آج (بدھ کے روز) ہماری کارروائیوں میں  14 دہشتگرد واصلِ جہنم ہوئے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ  آج ایک سیکیورٹی اہلکاروں کے  قافلے پر بی ایل اے کے دہشتگردوں کے حملے کے دوران آرمی کے 11 جوان شہید ہوئے، بی ایل اے کے 14 دہشت گرد مارے گئے۔

جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح الفاظ میں بتایا کہ  دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ ان کو سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ  دہشتگردوں کےپاس ہمارےیرغمال بچے تھے۔  اس دوران متعدد خارجی ہلاک ہوئے۔ 

منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ سٹیشن کےعلاقے میں دہشتگردی کاواقعہ ہوا۔  6 جولائی کو منگی ڈیم زیادت کے قریب پمپنگ  سٹیشن کے قریب پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ بلوچستان پولیس کے اہلکاروں نے بھرپور مقابلہ کیا، اس لڑائی میں کم از کم 15 دہشت گرد مارے گئے جن کی لاشیں چھوڑ کر بزدل دہشت گرد فرار ہوگئے، پولیس اہلکاروں نے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ اس دوران 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورسز کو فوری طور پر وہاں روانہ کیا گیا جب کہ دہشت گرد نہتہ کرکے کچھ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے، یہ پولیس کے جوان اسے علاقے کے ہیں، وہ سب وہاں کے مقامی بلوچ اور پختون ہیں، وہ اسی علاقے بچے ہیں۔

جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں کا بلوچستان اور بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ 

جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج میں ایبسولیوٹ کلئیرٹی ہی کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں عوام اور بلوچستان حکومت  بھی صورتحال پر بالکل کلئیر ہیں، ہم سے زیادہ ان میں کلئیریٹی ہے۔ بلوچستان کے بہادر عوام نے دہشتگردی کا بہادری سے مقابلہ کیاہے۔ دہشتگردوں کا مقصد عوام کو خوفزدہ کرنا تھا، وہ بری طرح ناکام ہوئے۔  بلوچستان پاکستان کی آن ہے، شان ہے اور جان ہے۔ ہم بلوچستان پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا پیچھا کریں گے، وہ جہاں بھی ہوں گے ہم ان دہشتگردوں کو نشانہ بنائیں گے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں