1

مقدس شہروں کے تحفظ کیلئے کون سے ائیر ڈیفینس سسٹم رو بہ عمل ہیں? تفصیل سامنے آ گئی

(ویب ڈیسک) مقدس شہر مکہ پر حوثیوں کے ڈرون حملہ کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب اپنے مقدس شہروں کو کسی شیطانی گروہ کے حملے سے بچانے کے لئے کون سا ائیر ڈیفینس سسٹم استعمال کر رہا ہے۔ 

مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد انترنیشنل میڈیا میں رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں اس ائیر ڈیفینس سسٹم کے متعلق بتایا گیا ہے جو  سعودی عرب مین عالم اسلام کے مقدس شہروں کی حفاظت کرتا ہے

منگل اور بدھ کی درمیانی شب سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا تھا۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس کی جانب سے  مکہ کی طرف بھیجے گئےاس شیطانی ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے کس دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا۔  البتہ  مئی میں سعودی عرب کی  وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں کچھ میزائل لانچرز، ریڈارز اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز دیکھی جا سکتی ہیں۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ان ہتھیاروں سے لیس ایئر ڈیفنس فورسز کو ’مقامات مقدسہ کے تحفظ اور فضائی خطرات سے بچاؤ‘ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

پیٹریاٹ ائیر ڈیفینس سسٹم
  ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے  ایکسپرٹس نے اس آفیشل ویڈیو کو دیکھ کر یہ تعین کیا کہ سعودی عرب اپنے فضائی دفاع اور خصوصاً اسلام میں مقدس سمجھے جانے والے مقامات کے تحفظ کے لیے کون سے ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔

 رواں برس مئی میں سعودی عرب کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں  دیکھے جانے والے سسٹم کے متعلق مصدقہ اطلاع یہ ہے کہ وہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ بیٹریاں، میزائل لانچرز اور ریڈار ہیں۔
سعودی  عرب میں مقدسہ (یعنی مکہ اور مدینہ) کے تحفظ کے لیے ان شہروں میں پیٹریاٹ نظام نصب ہے۔
 آفیشل ویڈیو میں نظر آنے والی اینٹی ایئر کرافٹ گن دراصل ’اورلیکن 35 ایم ایم‘ ہے، جو کہ سوئٹزلینڈ کی ایک کمپنی بناتی ہے۔

گذشتہ برس مئی میں سعودی عرب نے فضائی دفاع کے لیے امریکی ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفینس (تھاڈ) بھی خریدا تھا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اس دفاعی نظام کی افتتاحی تقریب جدہ کے ایئر ڈیفینس فورسز انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی تھی۔
پیٹریاٹ میزائل سسٹم کیا ہے؟
 سعودی عرب ڈرون، جہازوں، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔
یہ میزائل اور طیارہ شکن دفاعی نظام امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ہے۔
لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق سعودی عرب کے پاس اس کا بنایا گیا پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپابلیٹی تھری (پی اے سی تھری) دفاعی نظام بھی موجود ہے، جو کہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اپنے جدید ریڈار کے نظام کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں یہ بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور ان کو تباہ کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ میزائل سسٹم مختصر وقت میں آپریشنل ہونے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک جیمنگ کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
 پی اے سی ٹو اور پی اے سی تھری میں نصب کیے جانے والے میزائلوں کی قیمتیں لاکھوں ڈالرز تک ہے، اس لیے سعودی عرب اورلیکن اینٹی ایئر کرافٹ گنز استعمال کرتا ہے، جو کہ سعودی وزارت دفاع کی ویڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

Caption حملہ آور میزائلوں کا دور سے سراغ لگانے والا ٹرکیکنگ ریڈار 

محققین کے مطابق ان اینٹی ایئر کرافٹ گنز میں استعمال ہونے والے 35 ایم ایم شیلز پیٹریاٹ سسٹم میں لگنے والے میزائلوں کے مقابلے میں سستے ہیں۔
’اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیٹریاٹ دفاعی نظام میزائلوں یا بڑے ڈرونز جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اورلیکن 35 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گنز چھوٹے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔‘
لیکن 35 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گنز پاکستان میں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ڈرونز کے خلاف اسے مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا تھا۔

تھیڈ ائیر ڈیفینس سسٹم

سعودی عرب نے رواں برس لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ جدید تھاڈ  / تھیڈ ائیر ڈیفینس سسٹم بھی حاصل کیا تھا۔
رواں برس جولائی میں سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ ’تھاڈ دفاعی نظام کی پہلی بیٹری کی تعیناتی ایک وسیع تر دفاعی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مملکت کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور اہم سٹریٹجک تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔‘
  تھیڈ/ تھاڈ ’دنیا  مین اب تک وجود میں آنے والا جدید ترین میزائل ڈیفینس سسٹم‘ ہے، جو کہ  بہت نزدیک سے ور درمیانے فاصلے سے بھیجے گئےمیزائلوں کو روکنے کی مؤثر صلاحیت رکھتا ہے۔
لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق تھاڈ کو کسی بھی مقام پر برق رفتاری سے نصب کیا جا سکتا ہے اور اسے دیگر بیلسٹک میزائل ڈیفینس سسٹم، جیسے کہ پیٹریاٹ تھری دفاعی نظام، کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:  مکہ مکرمہ کی جانب آنے والاحوثی ڈرون تباہ 
تھیڈ  دفاعی نظام کی سعودی عرب میں تنصیب کی افتتاحی تقریب جدہ میں رواں برس جولائی میں ہوئی تھی
سعودی عرب نے اسی برس تھاڈ فضائی دفاعی نظام حاصل کیا ہے، جسے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حوثیوں کے حملوں سے قبل ایران بھی سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
حماد ولید کے مطابق یہ فضائی دفاعی نظام ان بیلسٹک میزائلوں کو بھی روک سکتا ہے جو ایران استعمال کرتا ہے، یا وہ میزائل جو حوثی فائر کرتے ہیں۔
 اہم بات یہ ہے کہ تھیڈ صرف میزائلوں کو روکنے کے لئے مؤثر ہے۔  اس سسٹم کو  ڈرونز کے خلاف نہیں استعمال کیا جاتا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جنگ خطرناک مرحلہ میں داخل ہو گئی، سعودی عرب کی حوثی ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں