
( اویس کیانی)قطر کے سابق امیر اور موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے والد شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کے انتقال پر قطر بھر میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ حکومت نے چار روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے.
سرکاری اعلان کے مطابق ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور تمام وزارتوں، سرکاری اداروں اور عوامی اداروں میں پیر 13 جولائی 2026 سے کام معطل رہے گا اور ملازمین اتوار 19 جولائی 2026 کو دوبارہ کام شروع کریں گے، شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی نمازِ جنازہ آج جامع مسجد امام محمد بن عبدالوہاب، دوحہ میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں لوسیل قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا.
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکومت کی. انہوں نے 2013 میں رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد الثانی کے حوالے کیا، جو اس وقت صرف 33 برس کے تھے۔ اقتدار کی منتقلی کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ اب نئی نسل کے لیے ملک کی قیادت سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے.
شیخ حمد کو جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے، ان کے تقریباً اٹھارہ سالہ دورِ حکومت میں قطر نے مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار اور برآمدات میں عالمی قیادت حاصل کی، جس سے ملک کی معیشت میں غیرمعمولی ترقی ہوئی اور قطر دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے لگا.
ان کے دور میں قطر نے عالمی سفارت کاری، سرمایہ کاری، کھیل اور میڈیا کے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا، اسی عرصے میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا، جبکہ قطر ایئرویز دنیا کی صفِ اول کی فضائی کمپنیوں میں شامل ہوئی،جدید حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے بھی اسی دور میں مکمل کیے گئے.
یہ بھی پڑھیں: جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا آغاز امریکا اور اتحادی ممالک سے ہونا چاہیے:شمالی کوریا
شیخ حمد کی قیادت میں قطر نے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کو وسعت دی اور برطانیہ کے معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور ہیروڈز سمیت دنیا بھر میں اہم منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، اسی دور میں قطر کو 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جس نے ملک کی عالمی شناخت کو مزید مضبوط کیا.
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی شیخ حمد نے اہم کردار ادا کیا، ان کی قیادت میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں، وہ 2012 میں غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت تھے، جہاں انہوں نے تعمیراتی منصوبوں کے لیے 400 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا.
تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کو ایک ایسے مدبر رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے محدود آبادی اور رقبے والے قطر کو توانائی، معیشت، سفارت کاری، میڈیا اور کھیل کے شعبوں میں عالمی سطح پر ایک بااثر ملک کی حیثیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کے انتقال پر عرب اور اسلامی دنیا سمیت عالمی رہنماؤں کی جانب سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے.
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سابق امیر قطر کےانتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی عظیم رہنما تھے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ شیخ حمد کی حکمت، دوراندیشی نےقطرکو ایک جدید، خوشحال ملک میں تبدیل کیا، انہوں نے عوام کی فلاح،علاقائی امن اور ترقی کےلیےگرانقدرخدمات انجام دیں۔
وزیرخارجہ پاکستان اسحاق ڈار نے بھی شیخ حمدبن خلیفہ الثانی کے انتقال پردکھ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حمد بن خلیفہ نے قطر پاکستان دوستانہ تعلقات کےفروغ میں اہم کردار ادا کیا، ان کی خطے کے امن کیلئے خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






