
(زاہد چودھری)محکمہ ہیلتھ کی مبینہ ناکامی کی وجہ سے پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں آن لائن کمپیوٹرائزڈ کام تعطل کا شکار ہے ، ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹس، پوسٹ مارٹم اور دیگر رپورٹس ہاتھ سے جاری کرنے لگے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں ہاتھ سے لکھے میڈیکولیگل سرٹیفیکٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹس دینے کا سلسلہ جاری ہے، عدالت عالیہ کی جانب سے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈیجیٹلائزڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے مدعا ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان پر ڈال دیا ، سروسز اور نشتر ہسپتال کے ایم ایس کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔
علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ کے ایم ایس، علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان ، ڈاکٹر فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا کے ایم ایس کو شوکاز جاری کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہاتھ سے لکھے گئے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس و پوسٹ مارٹم رپورٹس میں ردوبدل کا خدشہ ہے،ردوبدل کے پیش نظر میڈیکولیگل رپورٹس کو آن لائن کیا گیا مگر عمل نہیں ہوسکا ، ہسپتالوں کو میڈیولیگل رپورٹس ڈیجیٹلائزڈ کرنے کیلئے نہ فنڈز ملے نہ ہیومن ریسورس مہیا کیے گئے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق پانچ ہسپتالوں نے 3644 میڈیکولیگل، 283 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کیں، نشتر ہسپتال ملتان سے 816 میڈیکولیگل، 182 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری ہوئیں، علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ سے 1245 میڈیکولیگل، 43 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری ہوئیں، فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا سے 735 میڈیکولیگل۔ 48 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری ہوئیں۔
علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان سے 768 میڈیکولیگل، 10 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری ہوئیں،سروسز ہسپتال سے 680 میڈیکولیگل سرٹیفیکٹ جاری ہوئے، ہاتھ سے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ اور پوسٹ رپورٹ تحریر کرنے کی ممانعت کے 6 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کی طبیعت خراب، ابوظہبی میں زیر علاج