
(24 نیوز ) امریکا کی بھارت سے متعلق حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات اب ماضی جیسے نہیں رہے۔
بھارتی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اب بھارت کو صرف ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ممکنہ معاشی حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد تعلقات میں بہتری کی توقعات پوری نہ ہو سکیں، بلکہ متعدد معاملات پر اختلافات اور کشیدگی مزید نمایاں ہو گئی۔
بھارتی جریدے کے مطابق امریکی پالیسی میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد نے تہران کے ساتھ امریکی رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے امریکی “ڈیپ اسٹیٹ” پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے جھوٹے بیانیے استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے 2024 میں سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر کے خلاف گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش کا مقدمہ بھی قائم کیا، جبکہ صنعت کار گوتم اڈانی پر عائد فراڈ الزامات کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے خلاف ایک بالواسطہ اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہر کانتی باجپائی کے مطابق امریکا اور بھارت کے خصوصی تعلقات اب مفادات پر مبنی ایک نسبتاً سرد مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسی، خارجہ حکمتِ عملی اور تجارتی تنازعات نے دونوں ممالک کے تعلقات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔






