
(24 نیوز )امریکا میں برسوں سے نئی گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عام صارفین کے لیے کار خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے, ایسے میں کئی بڑی آٹو کمپنیاں اب روایتی گاڑیوں کے بجائے انتہائی چھوٹی، کم قیمت اور برقی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جنہیں مستقبل کی شہری ٹرانسپورٹ کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سی این بی سی کے مطابق آٹو انڈسٹری کی بڑی کمپنی اسٹیلینٹس سمیت متعدد اداروں کا خیال ہے کہ امریکی صارفین اب نسبتاً سستی، مختصر فاصلے کے لیے موزوں اور آسانی سے چلائی جانے والی چھوٹی برقی گاڑیاں خریدنے میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔
یہ گاڑیاں روایتی کاریں نہیں بلکہ لو اسپیڈ وہیکلز ہلاتی ہیں جو گالف کارٹ سے زیادہ جدید مگر عام کار یا پک اپ ٹرک سے چھوٹی ہوتی ہیں, ویو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کیتھ سائمن کے مطابق چھوٹی برقی گاڑیوں کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس شعبے میں نئی کمپنیاں بھی تیزی سے قدم رکھ رہی ہیں۔
اس موضوع کو اس وقت مزید توجہ ملی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں کہا کہ وہ امریکی کمپنیوں کو یورپ اور جاپان کی طرز کی چھوٹی گاڑیاں بنانے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں, انہوں نے کہا کہ یورپ میں ایسی چھوٹی گاڑیاں عام نظر آتی ہیں اس لیے امریکا میں بھی ان کی تیاری ہونی چاہیے۔
اگرچہ ماضی میں چھوٹی گاڑیاں امریکی مارکیٹ میں زیادہ کامیاب نہیں رہیں، تاہم صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بدلتے حالات میں اب صورتحال مختلف ہے, نئی گاڑیوں کی اوسط قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ یہ چھوٹی برقی گاڑیاں تقریباً 15 ہزار ڈالر سے دستیاب ہوں گی یعنی قیمت روایتی گاڑی کے مقابلے میں بہت کم ہوگی۔
ان گاڑیوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہیں خصوصی اور مہنگے چارجر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ گھروں میں موجود عام بجلی کے ساکٹ سے رات بھر میں چارج کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں روزمرہ کے مختصر سفر، رہائشی کالونیوں، ریٹائرمنٹ کمیونٹیز اور بند رہائشی علاقوں کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
مشاورتی ادارے میکنزی اینڈ کمپنی کے مطابق مائیکرو موبیلیٹی کی عالمی مارکیٹ 2022 میں تقریباً 160 ارب ڈالر تھی جس کے سنہ 2030 تک بڑھ کر 340 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے, صرف شمالی امریکا میں یہ مارکیٹ 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 35 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
امریکی قوانین کے مطابق یہ گاڑیاں زیادہ سے زیادہ 25 میل فی گھنٹہ (تقریباً 40 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چل سکتی ہیں, ان میں ہیڈ لائٹس، اشارے (ٹرن سگنلز)، آئینے اور ونڈ اسکرین جیسی بنیادی حفاظتی سہولتیں لازمی ہوتی ہیں تاہم ان میں ایئر بیگز کی شرط نہیں ہوتی۔ یہ صرف ان سڑکوں پر چلائی جا سکتی ہیں جہاں رفتار کی حد 35 میل فی گھنٹہ یا اس سے کم ہو۔
امریکی اسٹارٹ اپ چِپ موٹرز نے بھی اپنی نئی 4 اور 6 نشستوں والی برقی گاڑی متعارف کرائی ہے جس کی ابتدائی قیمت تقریباً 15 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے, کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان گاڑیوں میں خودکار ڈرائیونگ جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی شامل کی جائے گی جبکہ فی الحال انہیں دوسری یا اضافی خاندانی گاڑی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اسٹیلینٹس کے ذیلی برانڈ فیٹ نے بھی اپنی چھوٹی برقی گاڑی ٹوپولینو امریکا میں محدود پیمانے پر فروخت کرنا شروع کر دی ہے, اطالوی زبان میں ٹوپولینو کا مطلب ’چھوٹا چوہا‘ ہے, یہ 4 پہیوں والی نہایت مختصر جسامت کی برقی گاڑی ہے جو یورپ میں پہلے ہی مقبول ہو چکی ہے,فیٹ کے چیف ایگزیکٹو اولیویئر فرانسوا کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کو اس نئی طرز کی شہری ٹرانسپورٹ کے لیے آزمائشی مارکیٹ بنانا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ گاڑیاں ہر امریکی خاندان کی بنیادی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں، لیکن مختصر فاصلے، کم لاگت، آسان چارجنگ اور شہری آمدورفت کے باعث یہ مستقبل میں ایک اہم متبادل بن سکتی ہیں, اگر یہ رجحان کامیاب رہا تو امریکا، جہاں بڑی گاڑیاں ہمیشہ سے زیادہ مقبول رہی ہیں وہاں بھی انتہائی چھوٹی برقی گاڑیاں سڑکوں پر عام دکھائی دے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی پاسداران کا آبنائے ہرمز پر ایم کیو 9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ






