
(بابر شہزاد تُرک)وفاقی حکومت نے بیوروکریسی سے متعلق اہم انتظامی فیصلے کرتے ہوئے ایک جانب سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی روشنی میں سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے ڈپٹی سیکریٹری نسیم احمد خان کی ایک سال تک ترقی روکنے کی سزا کو “سنشور” (Censure) میں تبدیل کر دیا، جبکہ دوسری جانب گریڈ 22 اور گریڈ 20 کے دو افسران کی ریٹائرمنٹ اور متعدد افسران کے تقرر و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیئے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ مختلف نوٹیفکیشنز کے مطابق سیکریٹریٹ گروپ کی گریڈ 22 کی افسر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمینہ اے حسن 20 دسمبر 2026 کو سرکاری ملازمت کی مقررہ عمر 60 برس مکمل ہونے پر ریٹائر ہوں گی، جبکہ سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 20 کے افسر اور انسانی حقوق ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری نذر جمیل 29 دسمبر 2026 کو ریٹائر ہوں گے۔
ایک علیحدہ نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے 12 مئی 2026 کے حکم کی روشنی میں سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے ڈپٹی سیکریٹری نسیم احمد خان پر عائد ایک سال تک ترقی روکنے کی معمولی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے “سنشور” کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ترقی روکنے کی سزا ختم ہو گئی ہے جبکہ ان کے سروس ریکارڈ پر صرف “سنشور” برقرار رہے گی۔
دریں اثناء، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مختلف افسران کے تقرر و تبادلوں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے ہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری کے منتظر وقاص علی خان کو سیکشن افسر، امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن تعینات کیا گیا ہے، مریم ملک کو سیکشن افسر، خزانہ ڈویژن جبکہ فضیلت نعیم کو سیکشن افسر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں آزاد جموں و کشمیر حکومت میں خدمات انجام دینے والی لیکچرار خدیجہ حسن کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں تعینات کر دیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام فیصلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کی نماز جنازہ ادا،فوجی اعزاز کیساتھ سپرد خاک