8

49 مسافرہنوز لاپتہ؛ پی کے چار سو چار کوزمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟

(24نیوز)  پاکستان انٹرنیشل ایئر (پی آئی اے) کا جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے اچانک ریڈار سے غائب ہوا اور ساتھ ہی ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا، یہ حادثہ جہاز کے گلگت ائیرپورٹ سے  اڑنے  کےصرف  9 منٹ بعد ہوا۔ اس جہاز کو غائب ہوئے 25 اگست کو  پورے  37 سال ہو گئے ہیں۔ جہاز کو کبھی تلاش نہیں کیا جا سکا، آج بھی ہمیں معلوم نہیں کہ اس جہاز کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ گلگت ائیر پورٹ سے ٹیک آف کرنے کے بعد سے ریڈار سے غائب ہونے تک اس  جہاز کے پائلٹ نے ہنگامی صورت حال میں دی جانے والی “مے  ڈے  کال”  (May day call) نہیں دی نہ  ہی جہاز میں کسی  اچانک خرابی کے بارے میں بتایا۔  

 ابتدا میں اس مسافر جہاز کے غائب ہو جانے کے بعد اسے تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی تو   جہاز کے اس طرح  ائیر ٹریفک کنٹرول کو کسی خرابی کی اطلاع دیئے بغیر غائب ہونے کے متعلق قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ اسے ممکنہ طور پر ہمسایہ ملک سے کسی میزائل نے نشانہ بنایا ہو گا۔  گلگت کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے زیادہ دور نہیں۔ 

پی آئی اے کے اس مسافر  جہاز کے پائلٹ کی طرف سے کسی  خطرے کی نشان دہی نہیں کی گئی اور اچانک جہاز پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔ دشوار پہاڑی علاقہ میں اسے ہیلی کاپٹروں اور زمینی سرچ مشنز کے ذریعہ بہت تلاش کیا گیا لیکن جہاز کے ملبہ کا کوئی معمولی نشان بھی کہیں نہیں ملا۔  آج 37 برس بعد بھی پی آئی اے کے اس جہاز کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

پی کے چار سو چار کے متعلق ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
 آج سے 37 برس پہلے جہاز میں سوار مسافر خوش جہاز کے کیپٹن ایس ایس زبیر نے  معمول کے مطابق یہ رسمی اناؤنسمنٹ کی کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے-404 روانہ ہو رہی ہے۔ موسم خوش گوار ہے  اور ہم 8 ساڑے 8 ہزار کی بلندی پر گلگت سے  روانہ ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کریں گے، میرے ساتھ فرسٹ آفیسر احسن بلگرامی، ائیر ہوسٹس خالدہ حبیب اور فلائٹ سٹیورڈ مقصود آپ کے سفر کو مزید خوشگوار بنانے میں مصروف ہیں۔

 یہ بھی پڑھیئے: پمز کا ای ڈی قاتل، اس کو گرفتار کریں، سینیٹ میں سعدیہ عباسی کا احتجاج 
جہاز کے کیپٹن کی اناؤنسمنٹ کے ساتھ جہاز نے گلگت ائیرپورٹ سے 7 بج کر 36 منٹ پر  ٹیک آف کیا۔ صرف نو منٹ بعد  7 بج کر 45 منٹ پر جہاز کا رابطہ ائیر ٹریفک کنٹرولر کے ساتھ منقطع ہوگیا اور یہ تشویش ناک صورتحال سامنے آئی کہ 49 مسافروں سے بھرا  جہاز لاپتہ ہوگیا ہے۔ جب جہاز غائب ہوا تو موسم اچھا تھا۔ اسی وقت جہاز کی تلاش کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ لیکن  تلاش کرنے والوں کے ہاتھ کئی ہفتے کی منظم تلاش کے بعد بھی کچھ سراغ نہیں ملا کہ جہاز کہاں غائب ہو گیا۔

تب سے اب تک  اس سارے علاقے میں کہیں اس جہاز کا سراغ نہیں ملا۔ اس دوران علاقہ میں ہزاروں کی تعداد میں ہائیکنگ کرنے والے، کوہ پیما اور ایڈونچر کے شائق سیاح آتے رہے۔ غیر ملکی کوہ پیماوں کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی آراستہ سسٹم بھی ہوتے ہیں جو سیکڑوں فٹ برف میں دبی ہوئی کسی بھی چیز کی  نشاندہی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سارے علاقے میں کہیں بھی کسی کو  اس غائب ہو چکے جہاز کے کوئی  شواہد  نہیں ملے۔

پی آئی اے کے جہاز میں سوار 54 افراد  تاحال لاپتہ ہیں۔  نہ  ملبہ، نہ ہی کسی ایک مسافر کا  کوئی نشان مل سکا۔ مسافر اور عملہ کے ارکان کے اہل خانہ طویل عرصہ تک کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے۔ طیارے کی کوئی اطلاع نہ ملنے کے سبب ان بدقسمت مسافروں کے لواحقین کو کبھی یہ دکھ نہیں بھولا۔ وہ دراصل یہ جانتے ہی نہیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ بہت طویل وقت نے بیشتر لوگوں کو صبر دے دیا۔ لیکن لواحقین آج بھی اس دکھ کو بھولے نہیں۔

 25 اگست 1989 کا دن  بلاشبہ پاکستان ایوی ایشن کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ 

جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی

پی آئی اے کا  فوکر F27 جہاز مکمل فٹ تھا، جس کا رجسٹریشن نمبر AP-BBF  تھا۔ یہ جہاز صبح 07:36 پر گلگت ایئرپورٹ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا جس  میں 49 مسافر اور 5 عملے کے ارکان سوار تھے، ٹیک آف کرتے ہوئے معمول کے مطابق ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ہوا، ائیر ٹریفک کنٹرولر نے جس ڈائریکشن میں جہاز اڑانے کا حکم دیا، پائلٹ نے اسی سمت میں جہاز کو  اڑایا اور اس کے 9 منٹ بعد پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے معمول کا رابطہ کیا اور اس کے بعد اچانک پائلٹ کا ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہوگیا تو ائیر ٹریفک کنٹرول پر موجود آفیسرز کافی دیر تک طیارے سے رابطہ بحال ہو جانے کے منتظر رہے۔ یہ رابطہ کبھی بحال نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  موسم آج  رات اور کل بھی گرم مرطوب رہے گا، بارش کہاں کہاں ہو گی؟ میٹ ڈیپارٹمنٹ کی فورکاسٹ  

جہاز میں  خرابی کی  کوئی شکایت موصول  ہوئی نہ اس نے کسی ہنگامی صورت حال کے پیش نظر  مے ڈے کال آئی۔ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے چند منٹ بعد ہی اپنے سینیٹرز سے رابطہ کیا اور اس غیر معمولی صورت حال سے آگاہ کیا، کئی بار رابطے کی کوششیں کی گئیں مگر ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی، اس کے بعد جہاز کے لاپتہ ہونے کی خبر پ بلک میں بھی  پھیل گئی،  اسلام آباد ائیر پورٹ پر کہرام برپا ہو گیا۔ اس کے ساتھ گلگت ائیرپورٹ اور ملک کے تمام ائیرپورٹس پر سراسیمگی پھیل گئی۔ 

تب میڈیا بہت محدود تھا اور سوشل میڈیا کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود ریڈیو اور پی ٹی وی کی خبروں سے اس طیارے کے لاپتہ ہو جانے کی خبر  کچھ گھنٹوں میں ملک بھر اور ساری دنیا مین پھیل گئی۔

 ملک میں  تشویش پھیل ہوگئی۔ ہر زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کچھ پتا چلا؟ کب پتا چلے گا؟ بتا کیوں نہیں رہے؟ کیا جہاز تباہ ہو گیا؟   جہاز کیسے تباہ ہوا؟  پی آئی اے اور ایوی ایشن کے اہلکار  کئی روز تک مسافروں کے لواحقین اور شہریوں کو  تسلیاں دیتے کہ تلاش جاری ہے جیسے ہی معلومات موصول ہوں گی تو آگاہ کریں گے۔

 اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فضائیہ، پاک فوج اور مقامی رضاکاروں  سمیت تمام دستیاب وسائل کو میبیلائز کیا گیا۔ وسعی علاقوں میں پہاڑوں پر واقع دیہاتوں مین آباد لوگوں نے اپنے طور پر ارد گرد کے علاقے چھاننا شروع کئے۔  ائیر فورس اور آرمی ایوی ایشن نے  شمالی علاقہ جات کے پہاڑی سلسلوں میں سرچ آپریشن شروع کیا، نانگا پربت اور گرد و نواح کے علاقوں کو مقامی کوہ پیماوں اور ماہرین کی مدد سے کنگھالا گیا لیکن طیارے کا کوئی ملبہ، بلیک باکس یا کسی مسافر کی  کوئی نشانی دستیاب  نہ ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں:  روس نے ایک اور لانگ رینج انٹر کانٹی نینٹل میزائل کا تجربہ کر لیا 

اس جہاز کی تلاش کے لئے پاکستان نے پڑوسی  بھارت سے بھی رابطہ کیا اور درخواست کی  کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا  جہاز کہیں ایل او سی کے پار بلند پہاڑی علاقہ میں داخل ہو کر کھو گیا؟ 

پاکستان کے رابطہ کرنے پر  بھارت نے پاکستان کو اپنے گمشدہ مسافر جہاز کا ملبہ تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی، تین چار روز اسی طرح گزر گئے پھر بھارت نے پاکستان کو جواب دیا کہ وہ پاکستان کے بجائے اقوام متحدہ کی ٹیم کو اجازت دیتے ہیں مگر بدقسمت جہاز کو اقوام متحدہ کی ٹیم بھی تلاش نہ کر سکی۔ ان گزرے سالوں کے دوران بھارت کے مقبوضہ کشمیر اور اس سے اوپر تبت کے علاقہ میں کہیں بھی اس گمشدہ جہاز کی کوئی نشانی کسی کو نہیں ملی۔

 سول ایوی ایشن کے سابق چیف ائیر ٹریفک کنٹرولر سعید احمد نے ایک نیوز آؤٹ لیٹ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ خراب موسمی حالات اور کم اونچائی کے باعث طیارہ کسی گلیشیر یا گہری وادی میں جا گرا ہو، پائلٹ نے اس وقت کی ٹیکنالوجی کے حساب سے ائیر ٹریفک کنٹرولر کو میسج دیا ہو مگر پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے سگنلز نہیں ملے ہوں گے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ جہاز میں کوئی خرابی ہو اور پائلٹ ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ نہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات اچانک موسم خراب ہو جاتا  ہے، کسی ایک مخصوص علاقہ میں ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور جہاز اچانک ڈاؤن یعنی نیچے کی طرف بڑی تیزی سے  پھسل سکتا ہے، پائلٹ اس اچانک صورتحال سے آگاہ کرنا چاہے تو  سسٹم کے سگنلز آتے نہیں۔ اس صورتحال سے نکل آئےتو پائلٹ بعد میں رابطہ بحال ہونے پر صورتحال سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ 

سعید احمد نے کہا کہ دوسرے پائلٹ باقاعدہ ایک نقشے کے تحت ہوائی جہاز شمالی علاقہ جات میں اڑاتے ہیں، اگر کوئی چیز معمول سے مختلف ہو تو حادثہ ہونے کے بعد طیارے کے بلیک باکس کی سٹڈی سے پتہ چل جاتا ہے کہ کس وقت کیا ہوا تھا۔ اس بدقسمت جہاز کا کیونکہ کچھ بھی نہیں ملا، اس لئے کبھی اندازہ تک نہیں لگایا جا سکا کہ 25 اگست کی صبح گلگت کے پہاڑوں میں کیا ہوا تھا۔ 

پاکستان کی تاریخ کا واحد طیارہ حادثہ ہے جس کا کوئی سراغ آج تک نہیں ملا، ان37 برسوں میں موسمی تبدیلیاں رونما ہوئیں، گلیشیر پگھلتے رہے ملکی اور غیر ملکی سیکڑوں کوہ پیما اس علاقے کی برفانی چوٹیوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس سسٹم کے ساتھ سر کرتے رہے مگر ان کوہ پیماؤں کو بھی پراسرار طور پر غائب ہونے والے پی آئی اے کے جہاز اور اس میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے بارے میں معلومات نہیں ملیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں