
(احسن عباسی)سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کیمیکلز اور ڈائز سیکٹر کو درپیش مسائل پارلیمانی سطح پر حل کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ان شعبوں کے مسائل قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر لائے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کو بھی کمیٹی میں طلب کیا جائے گا۔
انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ صرف بجٹ کے دنوں میں نہیں بلکہ پورا سال اپنے مسائل پارلیمانی سطح پر اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے قبل تجاویز دی جائیں، کیونکہ بجٹ کے حتمی مرحلے پر تبدیلی مشکل ہوتی ہے، ای ایف ایس، 3 فیصد اضافی ٹیکس اور دیگر ٹیکس مسائل بھی سال بھر متعلقہ فورمز پر اٹھائے جانے چاہئیں۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں ایف بی آر، وزارت خزانہ اور متعلقہ اداروں کے حکام کو طلب کیا جائے گا، کمرشل امپورٹرز اور صنعت کے مفادات میں توازن ضروری ہے، جبکہ ای ایف ایس سے مختلف شعبوں کے اخراج کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا، انہوں نے تاجر برادری سے کہا کہ وہ اپنے کیسز اعدادوشمار اور ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کرے تاکہ مسائل کو مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پمز سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرانےکا حکم
اس موقع پر سلیم ولی محمد نے ای ایف ایس کے غلط استعمال کی روک تھام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس عدم مساوات ختم کی جائے اور 3 فیصد اضافی سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ای ایف ایس کے تحت درآمدات میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، تاہم برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔
سلیم ولی محمد نے مطالبہ کیا کہ ای ایف ایس درآمدات کو حقیقی زرمبادلہ یا ایل سی سے منسلک کیا جائے، جبکہ ای ایف ایس کے تحت 40 فیصد حد مقرر کرنے کے ساتھ سالانہ آڈٹ بھی کرایا جائے، انہوں نے کہا کہ کمرشل اور صنعتی درآمد کنندگان کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور ای انوائسنگ سمیت دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔






