
( ویب ڈیسک )وینزویلا کے ارب پتی کاروباری شخصیت الیخاندرو بیٹنکورٹ کی قسمت نے ڈرامائی موڑ لے لیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے ماضی میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے بیٹنکورٹ اب وینزویلا کے تیل سے متعلق ایک غیر معمولی معاہدے کے تحت واشنگٹن کے اہم شراکت دار بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیٹنکورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے وینزویلا کے ساتھ طویل المدتی تیل معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ ہفتے اعلان کیے گئے معاہدے کے تحت امریکا کو کئی دہائیوں کے لیے وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر کے تقریباً 20 فیصد تک رسائی حاصل ہوگی۔
معاہدے کے مطابق پینٹاگون کے آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل کو بیٹنکورٹ کی کمپنی نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز (NABEP) میں 35 فیصد حصص حاصل ہوں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کو کمپنی کے تیل کا 20 فیصد پیداواری لاگت پر خریدنے کا حق جبکہ باقی 80 فیصد پیداوار تک ترجیحی رسائی حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:افسوسناک خبر!شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل
رائٹرز کے مطابق بیٹنکورٹ حالیہ عرصے تک امریکی منی لانڈرنگ تحقیقات کا ہدف رہے ہیں۔ فلوریڈا کے پراسیکیوٹرز نے رواں سال کے آغاز میں ان کے خلاف تحقیقات روک دی تھیں، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے تحقیقات کب معطل کیں اور آیا یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعاون کے بدلے میں کیا گیا تھا یا نہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں بھی بیٹنکورٹ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ جاری ہے، جبکہ مئی میں سوئس حکام نے برطانیہ سے ان کی حوالگی کی درخواست واپس لے لی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بیٹنکورٹ کو درپیش بیشتر قانونی معاملات تقریباً ایک دہائی پرانے ہیں اور اس وقت امریکا میں انہیں کسی قانونی مسئلے کا سامنا نہیں۔ عہدیدار کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے بیٹنکورٹ پیداوار بڑھانے کے لیے موزوں شراکت دار ہیں۔
دوسری جانب بیٹنکورٹ کی کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو پیچیدہ توانائی کی منڈیوں میں کام کرنے کا مضبوط تجربہ حاصل ہے۔ وکیل کے مطابق بیٹنکورٹ کے خلاف الزامات مختلف ممالک کے حکام کی جانب سے تفصیل سے جانچے جاچکے ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔






