
( وقاص عظیم)پاکستان ہائی کمیشن لندن کے زیر اہتمام پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا گیا، جس میں لندن کے معروف سرمایہ کاروں، عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ شخصیات نے شرکت کی، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے،حکومت کی کوشش ہے کہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی مالی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، بجٹ خسارے میں کمی ہوئی ہے جبکہ حکومتی آمدن میں اضافہ اور مالی و ادارہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت ہوئی ہے، حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات سے ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی،معاشی ترقی کے لیے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔
معیشت کے استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔۔۔حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔۔۔سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ساتھ نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔۔۔بجٹ خسارے میں کمی اور حکومتی آمدن میں اضافہ ہوا ہے ۔۔۔ٹیکس کے معاملے میں کسی… pic.twitter.com/dlVvjecpUS
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 17, 2026
سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے گئے ہیں اور ٹیکس کے معاملے میں کسی کے ساتھ خصوصی رعایت نہیں برتی جا رہی، تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ردالفتنہ 3:بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں ، 3 دہشتگرد جہنم واصل
وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ملک میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام جائزے مقررہ وقت پر کامیابی سے مکمل کیے ہیں جبکہ ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔
تقریب کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کی،اس موقع پر پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔






