
(ویب ڈیسک) حوثی ملیشیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف قاہرہ پہنچ گئے ہیں، ان کا یہ دورہ سعودی ولی عہد کے دورۂ مصر کے چند روز بعد ہوا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی حکومت کے ملازمین کے سعودی شہروں طائف اور ینبع کے سفر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، ینبع بحیرہ احمر پر تیل کی برآمد کے ایک بڑے ٹرمینل کا مرکز ہے، جسے ماضی میں حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ریاض اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے باعث دنیا کے سب سے بڑے خام تیل فراہم کنندہ سعودی عرب سے تیل کی برآمدات کے ساتھ ساتھ سمندری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مکہ الائنس، دفاعی اتحاد کا اگلا مرحلہ سامنے آگیا
سعودی عرب کے اتحادی امریکہ کی جانب سے بھی مختلف نوعیت کے اشارے سامنے آئے ہیں، امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ فاکس نیوز نے اب رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
حوثیوں نے اس سے قبل یمن کی جنگ میں سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے کے خلاف خبردار کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے، سعودی عرب کے بڑے اخبارات نے ریاض پر ہونے والے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے دارالحکومت پر حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔
سعودی اتحاد نے کہا کہ حوثیوں نے مملکت کے مغربی حصے کے کئی شہروں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع بھی شامل ہے، جو سعودی تیل کی برآمد کا ایک بڑا مرکز ہے۔






