7

آزادکشمیر میں الطاف حسین والی سیاست نہیں دیکھنا چاہتا، انتخابات تک یہیں رہوں گا؛بلاول بھٹو

(حاشر احسن)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں آزاد جموں و کشمیر میں ایم کیوایم اور الطاف حسین والی سیاست نہیں دیکھنا چاہتا، میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات تک کہیں نہیں جارہا، میں یہیں آزاد جموں و کشمیر میں رہوں گا۔

مظفرآبادمیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں آزاد جموں و کشمیر میں ریاستی حکام، پارٹی عہدیداران و ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، صدر ریاست چودھری لطیف اکبر، صدر پی پی پی چودھری یاسین، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، سینئر وزیر میاں وحید ودیگر موجودتھے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں بریفنگ دی، بلاول بھٹو زرداری کو پی پی رہنماؤں نے بریفنگ دیتے ہوئےکہاکہ ہم پورے آزاد جموں و کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلارہے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کے ہر انتخابی حلقے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار مؤثر انتخابی مہم چلارہے ہیں، بھمبر سے تاؤ بٹ تک آزاد جموں و کشمیر میں صرف پاکستان پیپلزپارٹی نظر آرہی ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے، آزاد جموں و کشمیر آنے سے قبل میں نے نائب وزیراعظم سے یہاں کے عوام میں رسد و فراہمی کے مسائل کے حل کے حوالے سے بات کی ہے، آپ نے 30 دن تک احتجاج کا ریکارڈ بنالیا، احتجاج تاحیات کیلئے نہیں ہوتے، اب اس احتجاج کو ختم کریں، آئیں بات کریں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے ہمیں حقوق حاصل نہیں ہوتے، ہمیں نظام میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنے ہوں گے، انتخابی عمل سے بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے عمل کی مذمت کرتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر اپنے نام میں آزاد ہے مگر عملی طور پر گرانٹس پر چلتا ہے۔ 

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ آزاد جموں و کشمیر وفاقی حکومت میں ایک وزارت کے جوابدہ ہے یا اپنے وزیراعظم کے؟ سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ کیسے ہم آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کو کیسے پورا کرنا ہے، اگر آزاد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کی تکمیل نہیں ہوگی تو انتشاری قوتیں فائدہ اٹھائیں گی،آزاد جموں و کشمیر کی نئی نسل سٹیٹس کو سے مطمئن نہیں ہے، ان کو پرانی تنخواہ پر نہیں چلایا جاسکتا،میں چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر کی آبزرور کے طور پر سہی، ایک عبوری نمائندگی ہو۔

بلال بھٹو زرداری نے کہاکہ اگر قومی اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر کی عبوری نمائندگی ہوگی تو جب کسی دوسرے صوبے کا فرد کون کشمیری ہے یا کون نہیں کا فیصلہ کررہا ہوگا تو راولاکوٹ والا اپنی تاریخ بتاسکے گا، اگر این ایف سی کے فورم پر آزاد جموں و کشمیر کا نمائندہ ہوتا تو وہ یہاں کے عوام کے لئے آواز بلند کرتا، ان کاکہناتھا کہ انتخابات کے بعد آئینی فورم کا انعقاد ہونا چاہئے جس میں کشمیر سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر کشمیری عوام فیصلے کریں، وفاقی وسائل اور دوسری سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سو فیصد پورے کئے، میں آزاد جموں و کشمیر میں ایم کیوایم اور الطاف حسین والی سیاست نہیں دیکھنا چاہتا، میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات تک کہیں نہیں جارہا، میں یہیں آزاد جموں و کشمیر میں رہوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات؛دو بڑی سیاسی جماعتوں میں انتخابی اتحاد ہو گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں