11

 مذاکرات کا مطلب سمجھوتہ نہیں ہے باقر قالیباف کا اہم بیان سامنے آگیا

(24نیوز) ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مطلب سمجھوتہ نہیں ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے یہ اہم بات بدھ، 15 جولائی 2026 کی رات کو اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل (Telegram Channel) پرایک تفصیلی اور باضابطہ بیان میں کہی ہے۔ 
امریکہ کی ایران پر تین راتوں کی حالیہ شدید بمباری، جنگ بندی (MoU) کے بظاہرخاتمے اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کئے جانے کے بعد  باقر قالیباف نے تہران سے یہ سٹریٹجک بیان جاری کیا۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے واضح کیا کہ “ہم نے کبھی جنگ کا خیرمقدم نہیں کیا اور نہ اب کرتے ہیں، لیکن ہمیں جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آخری سانس تک ڈٹ جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے قومی مفادات کو مستحکم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کے اوزار بھی استعمال کرنے چاہئیں۔ اس مرحلے پر مذاکرات کا مطلب سمجھوتہ (Compromise) نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ کے ساتھ ساتھ مزاحمت اور قومی مفادات کے تحفظ کی سٹریٹجی کا ایک حصہ ہے۔ مذاکرات یا جنگ میں سے کسی ایک کو واحد حل کے طور پر چننا ایک سٹریٹجک غلطی ہوگی۔” 

یہ بھی پڑھیئے:    فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں دو ایرانی بھی جگمگائیں گے، ان کے نام کیا ہیں؟ 

قالیباف کا یہ بیان سامنے آتے ہی مبصرین اور اینالسٹوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بعض اینالسٹوں کا یہ کہنا ہے کہ  قالیباف کے آج شب یہ بات اس وقت کہنے کی وجوہات (پس منظر) میں امریکہ کی طرف سے حملوں کی دھمکی نمایاں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو وہ اگلے ہفتے سے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیں گے۔ قالیباف کا یہ بیان اس فوجی دباؤ کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ باقر قالیباف نے اس بیان کے ذریعے واشنگٹن کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مقصد یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ تہران امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے آگے جھک کر اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے جا رہا ہے۔ 
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا موقف: قالیباف نے اس بیان میں اس بات پر بھی  زور دیا کہ ایران کی قومی سلامتی کا انحصار آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات اور خودمختاری کو برقرار رکھنے پر ہے، اور اس مقصد کے لیے ایرانی افواج کو دشمن کی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
یکطرفہ معاہدوں کا خاتمہ: اس سے پہلے 12 جولائی کو باقر قالیباف نے واضح کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ اب “یکطرفہ سمجھوتوں کا دور ختم ہو چکا ہے”۔ اگر امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرے گا تو اسے قیمت چکانی پڑے گی۔ 

یہ بھی پڑھیں:  ایران میں لاپتہ ہونے والے دو پاکستانیوں کو تلاش کر لیا گیا 

تاہم قالیباف کے اس بیان کے بعد امریکہ نے ایران کی آبنائے ہرمز کو کنترول کرنے میں کردار ادا کرنے والی تنصیبات پر مسلسل حملے کئے ہیں اور ان سینکڑوں ائیر سٹرائیکس کے بعد اب باقر قالیباف کا یہ بیان سامنے آیا ہے جسے مذاکرات کے عمل میں ایران کی واپسی کا ایک اشارہ بھی تصور کیا جا سکتا ہے تاہم اب تک کسی بیک چینل سے ایران اور امریکہ کے رابطے بحال ہونے کی اطلاع کی انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹ میں سامنے نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں