3

بلوچستان پولیس نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں زیر تربیت اہلکاروں کو پیش آنے والے واقعات کو فوڈ پوائزننگ سے جوڑنے والی سوشل میڈیا اطلاعات مسترد کردیں، ترجمان بلوچستان پولیس

بلوچستان پولیس نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں زیر تربیت اہلکاروں کو پیش آنے والے واقعات کو فوڈ پوائزننگ سے جوڑنے والی سوشل میڈیا اطلاعات مسترد کردیں، ترجمان بلوچستان پولیس
پولیس ترجمان کے بیان کے مطابق پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں دو اہلکاروں کو مختلف ایام میں کارڈیک اریسٹ کے واقعات پیش آئے،

ضلع شیرانی سے تعلق رکھنے والے اہلکار سمیع اللہ کو 5 نومبر کو کارڈیک اریسٹ ہوا، فوری طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے،

ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے مرزا خان کو 7 نومبر کو کارڈیک اریسٹ ہوا، انہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا،

مرزا خان لیویز فورس سے پولیس میں انضمام کے بعد پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں تربیت حاصل کررہے تھے،

پولیس اور ایکسائز کے چار سے پانچ زیر تربیت اہلکاروں کا بلڈ پریشر بڑھنے پر انہیں احتیاطی طور پر اسپتال منتقل کیا گیا،

متاثرہ اہلکاروں کے طبی معائنے اور ضروری علاج کے بعد تمام کی حالت خطرے سے باہر ہے،

پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں ناقص خوراک یا فوڈ پوائزننگ کا کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا،

زیر تربیت اہلکاروں کو پیش آنے والے واقعات کا کالج کے انتظامی نظام کی کسی کمزوری سے تعلق نہیں،

کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج شہزاد اکبر کی ہدایت پر ڈپٹی کمانڈنٹ محمد آصف غلزئی نے صورتحال کا جائزہ لیا،

ڈپٹی کمانڈنٹ محمد آصف غلزئی خود پولیس ٹریننگ کالج میں موجود ہیں اور انتظامی و طبی انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں،

پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، ڈسپنسری فعال اور ایمبولینسز دستیاب ہیں،

عوام اور سوشل میڈیا صارفین غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں،

حساس معاملات میں صرف مستند اور تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کیا جائے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں