کوئٹہ۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نیشنل پارٹی کوئٹہ کابینہ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری سیاست کے لیے گنجائش سکڑتی جارہی ہے۔ پی ڈی ایم کے دور میں جمہوری اصولوں اور پالیسیوں پر سمجھوتوں نے سیاسی عمل کو نقصان پہنچایا، جبکہ انتخابات کو عوامی نمائندگی کے بجائے مخصوص مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔انہونے کہا کہ عدلیہ، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے آزادانہ کردار کی گنجائش بھی محدود ہوتی جارہی ہے اور ملک میں گھٹن کا ماحول پیدا ہوچکا ہے۔ مارشل لا کے ادوار بھی دیکھے ہیں، لیکن اختیارات کا اسقدر مرکزیت ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے بلوچستان پر جنگ مسلط کی، جس کے اثرات آج بھی صوبے کی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی پر نمایاں ہیں۔ بلوچستان کے عوام شدید مشکلات، غربت، بے روزگاری اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ دو دہائیاں قبل ہزارہ قوم کو ظلم و جبر اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ آج بھی مختلف اقوام کی نقل و حرکت، کاروبار اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہیں۔ خواتین کو بسوں سے اتار کر لے جانے، گاڑیوں کو جلانے اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ افسوس کہ دونوں جانب سے مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ملک کی تاریخی وحدتوں کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنانے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کثیرالقومی ریاست میں قوموں کی تاریخی شناخت، جغرافیائی حیثیت اور اجتماعی وجود کو سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ بلوچستان کو کیک کی طرح تقسیم کرے۔ ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور سیاسی و جمہوری مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی تاریخ جمہوری جدوجہد، سیاسی قربانیوں پر مبنی ہے نیپ کے دور میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے جمہوری حکومت کا راستہ روکا گیا اور مارشل لا مسلط کیا گیا، تاہم جمہوری جدوجہد ہی کے نتیجے میں بلوچستان کو آئینی شناخت اور پارلیمانی حقوق حاصل ہوئے۔ عوام کے حقوق کا حصول جمہوریت اور سیاسی جدوجہد سے وابستہ ہے، اس راستے سے دستبرداری قوم کے لیے ایک بڑا المیہ ہوگا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تنظیمی حوالے سے کہا کہ نیشنل پارٹی کو عوام کی امیدوں کا مرکز بننے کے لیے اپنی تنظیم کو مزید مضبوط اور فعال بنانا ہوگا۔ عوام کو پارٹی کے ساتھ جوڑنے، سیاسی کارکنوں میں نظم و ضبط، دیانت داری کمٹمنٹ عاجزی اور اصول پرستی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ مشکلات کے باوجود سیاسی جدوجہد اور عوامی رابطوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ انتخابی حلقوں میں بھرپور محنت کریں، عوام کے درمیان جائیں اور آئندہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کے حصول کے لیے ابھی سے سیاسی ماحول بنائیں۔نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت اور بلوچ، پشتون، ہزارہ سمیت تمام اقوام کا مشترکہ سیاسی و سماجی مرکز ہے۔ نیشنل پارٹی تمام قوموں اور جمہوری سیاسی قوتوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو اپنے آبائی دیہات اور زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ پارو قلات، کھڈکوچہ، نوشکی اور مستونگ سمیت مختلف علاقوں سے عوام کو بے دخل کیا جار ہا ہے ۔ ہزاروں سالہ تاریخ اور آبائی سرزمین سے لوگوں کو محروم کرنا قابل مذمت ہے۔ قوموں کی تاریخی شناخت اور اجتماعی وجود کو نظرانداز کرکے نفرتوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ایسے میں امن کہا آسکتا ہے اور دوریاں کسیے کم ہونگی۔۔نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر شاوس حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے وفاقی حکومت کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبے کے ساحل و وسائل، عوام کے معاشی حقوق اور بلوچستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر وفاق کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ بلوچستان کے سیاسی و معاشی مسائل محض خاموشی سے حل نہیں ہوسکتے، اس کے لیے سنجیدہ سیاسی اقدامات اور عوامی حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔سینیٹر جان بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حکومت کی رٹ عملاً موجود نہیں، شاہراہیں غیر محفوظ اور عوام کی نقل و حرکت محدود ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرست اور جمہوری جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ پولنگ عملے کی تعیناتی بھی من پسند انداز میں کی جاتی ہے۔ لیکن تب بھی وہ حقیقی نمائندوں سے شکست کھا جاتے ہیں لیکن ان کو فارم 47 کے زریعے مسلط کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت جمہوری ممالک میں انتخابات کے بعد عوامی فیصلے کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن بلوچستان میں عوام کے ووٹ کی اہمیت مسلسل نظرانداز کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق کسی نے بھیک میں نہیں دیا بلکہ سیاسی جدوجہد، قربانیوں، قید و بند کی صعبوتوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قومی و سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی جمہوریت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے وفاق میں بلوچستان کا مقدمہ بھرپور انداز سے رکھا ہے وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹہ پر صرف نیشنل پارٹی نے بات کی اور عملی طور پر ان پر عمل درآمد کے لیے کوشش کررہے ہیں۔نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں نیشنل پارٹی نے اپنے کارکنوں اور عوام کی طاقت سے کامیابی حاصل کی، لیکن افسوس کہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو پامال کرکے فارم 47 مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں مؤثر تنظیم کاری اور عوامی رابطوں کے ذریعے پارٹی کو مزید منظم کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں عوامی حمایت سے دوبارہ کامیابی حاصل کی جائے گی۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بلوچستان اسمبلی رحمت صالح بلوچ، مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی، مرکزی ترجمان علی احمد لانگو، صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ، مرکزی لیبر سیکرٹری داد محمد بلوچ، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوئیر صالح بلوچ، مرکزی کمیٹی کے اراکین نیاز بلوچ، خیر بخش بلوچ اور میر کریم کھیتران، جنرل سیکرٹری حاجی عبدالصمد بلوچ، صوبائی تعلیم سیکرٹری سعدیہ بادینی، ضلعی نائب صدر عارف دہوار، جونیئر نائب صدر میر نصیب اللہ بنگلزئی، ملک عبدالرحمن بنگلزئی، حمید لہڑی، سعید سمالانی، فریدہ بلوچ، عیوض کشتمند اور حنیف کاکڑ، میر محمد عالم بنگلزئی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
تقریب کے نظامت کے فرائض مرکزی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد بلوچ اور ٹکری صدام لانگو نے انجام دیئے۔






