
(اویس کیانی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی نظام میں منتقل کرنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیش لیس معیشت کی جانب منتقلی سے پائیدار معاشی ترقی، شفافیت اور مالیاتی نظام کی بہتری ممکن ہوگی، انہوں نے ایک سال کے دوران QR کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافے کو اہم کامیابی قرار دیا اور ہدایت کی کہ تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جائے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر عوام کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے، انہوں نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو100 فیصد ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہولت بخش قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں وصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافے کے بعد 20 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے، نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹائز ہو چکی ہیں جبکہ نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ : کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے انتشاریوں کی فائرنگ، رینجر اہلکار شہید،ایک زخمی
بریفنگ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ ملک میں موبائل بینکنگ ایپ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ ہو چکی ہے، جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر میں سے 92 فیصد رقوم ڈیجیٹل ذرائع سے وصول ہوئیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کیش لیس معیشت سے متعلق تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے اور اس کی حتمی رپورٹ سفارشات سمیت نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے بھی اپنے رکن بینکوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں، بالخصوص راست (RAAST) نظام کے فروغ کے لیے اہداف تفویض کر دئیے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔






