
(ویب ڈیسک)چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی الزامات حقائق پر مبنی نہیں بلکہ چین کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک خطاب کے دوران الزام لگایا ہے کہ 2020 کے انتخابی دور کے آغاز سے چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کیا، جسے انہوں نے انتخابی ڈیٹا کی تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایسی خفیہ معلومات کو ڈی کلاسیفائی کیا جا رہا ہے جن کے مطابق غیر ملکی مداخلت اور انتخابی نظام میں کمزوریاں موجود تھیں۔
اس کے جواب میں چینی ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے الزامات پہلے بھی بارہا غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چین دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر عمل کرتا ہے اور اسے امریکی انتخابات میں مداخلت میں کوئی دلچسپی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہفتہ وار مہنگائی میں 1.40 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 13.09 فیصد تک پہنچ گئی
لن جیان نے امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الٹا سوال اٹھایا کہ آخر کون سا ملک دنیا بھر میں حکومتوں، کاروباری اداروں اور عوام کی نگرانی کرتا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کے شہریوں کا ڈیٹا حاصل کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں رواں سال نومبر میں مڈٹرم انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر سیاسی بیانات میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کا یہ خطاب بھی سیاسی بیانات کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جن کے ذریعے وہ اور دیگر ریپبلکنز ایران کی غیر مقبول جنگ اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث اپنی عوامی مقبولیت یعنی اپروول ریٹنگ میں کمی کو بہتر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔






