7

 رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیوں گرائی جا رہی ہے؟

(ویب ڈیسک)  بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتہا پسند حکومت کے پنجوں میں جکڑی ریاست اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع ’محمد علی جوہر یونیورسٹی‘ کی 38 عمارتیں یعنی پوری یونیورسٹی کو ہی ملیا میٹ کرنے کی انسٹی ٹیوشنلائزڈ سازش سامنے آئی ہے جس کے بعد اتر پردیش میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی یہ عظیم الشان یونی ورسٹی ایک بار پھر قانونی اور سیاسی تنازعہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 
بھارت کی نیوز آؤٹ لیٹ ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو 15 دن کے اندر مبینہ طور پر غیر مجاز تعمیرات ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔  م
 بصورت دیگر اتھارٹی کے حکام نے دھمکی دی ہے کہ اتھارٹی خود یہ  38 کثیر منزلہ عمارتیں گرا کر عمارتوں کو گرانے کے اخراجات یونیورسٹی انتظامیہ سے وصول کرے گی۔
اس کارروائی کے بعد سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کی طویل عرصہ کی مشقت سے  بنائی ہوئی اس یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر خبروں میں آ گئی ہے، جبکہ اس معاملے نے قانونی اور سیاسی بحث کو بھی دوبارہ ہوا دی ہے۔
رام پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اجے کمار دویدی نے کہا ہے کہ ’یونیورسٹی  کو مقررہ مدت کے اندر “غیر مجاز تعمیرات”  ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی یہ  (38 کثیر منزلہ) عمارتیں منہدم کرے گی اور اس کارروائی پر آنے والے اخراجات بھی انتظامیہ سے وصول کیے جائیں گے۔‘
ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دعوے کے  مطابق یہ عمارتیں اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کے تحت لازمی بلڈنگ پلان کی منظوری حاصل کیے بغیر تعمیر کی گئیں۔ 
محمد علی جوہر ٹرسٹ نے سنہ 2006 میں اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ سنہ 2012 میں اسے متعلقہ اداروں سے یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ رام پور میں وسیع  رقبے پر تعمیر کی گئی اس یونیورسٹی  کو رامپہور کے مسلمان سیاست دان  اعظم خان کی زندگی کا سب سے بڑا منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی میں طب، انجینئرنگ، قانون، زراعت، تعلیم اور سماجی علوم اور کئی دوسرے کلیدی  شعبوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں میڈیکل کالج، ہسپتال، طلبہ کے ہاسٹل اور رہائشی سہولیات بھی موجود ہیں۔
اعظم خان  ہمیشہ اس یونیورسٹی کو اپنا ’خوابوں کا منصوبہ‘ اور ’زندگی کا مشن‘ قرار دیتے رہے۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس ادارے کا مقصد خصوصاً اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے۔‘
اعظم خان کے حامی اس ادارے کو مغربی اتر پردیش کے سب سے بڑے تعلیمی اداروں میں شمار کرتے ہیں، جبکہ  حاسد ہندوتوا کے مریض طویل عرصے سے یونیورسٹی کے لیے زمین کے حصول اور اس کی ترقی کے طریقہ کارکو لے کر سازشیں کرتے آ رہے ہیں۔
اب یونیورسٹی کو ایک سرے  سے دوسرے سرے تک منہدم کر ڈالنے کا  نوٹس ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب یونیورسٹی اور اس کے بانی پہلے ہی کئی قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سنہ 2019 سے اب تک اعظم خان، ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ، بیٹے عبداللہ اعظم خان اور محمد علی جوہر ٹرسٹ کے دیگر اراکین کے خلاف زمین کے حصول، سرکاری اراضی پر قبضے، جعلسازی اور سرکاری زمین کے غلط استعمال سے متعلق  فوجداری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمانوں کے گھروں، دوکانوں پر بلڈور چلانے کی  پالیسی کے سبب عالمی سطح پر بدنام حکومت کا الزام ہے کہ کسانوں، مختلف سرکاری محکموں اور یہاں تک کہ دشمن جائیداد (اینیمی پراپرٹی) کی زمین بھی غیر قانونی طور پر یونیورسٹی کی حدود میں شامل کی گئی۔ حکومت نے یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی بعض اراضی کے لیز بھی منسوخ کر دیے تھے، جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا، جبکہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
اس سے قبل کے بیشتر تنازعات زمین کی ملکیت سے متعلق تھے، تاہم موجودہ کارروائی عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مرکوز ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’ہر ادارے کے لیے تعمیرات سے قبل منظور شدہ بلڈنگ پلان حاصل کرنا لازمی ہے اور اس معاملے میں بھی یہی قانونی معیار لاگو کیا جا رہا ہے۔‘
 یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس انہدامی حکم کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کرے۔ اس وقت تک ان 38 عمارتوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہے گا۔
یہ معاملہ سیاسی  ہی ہے کیونکہ یونیورسٹی کی الگ تھلگ عمارے ہر طرح سے مثالی تعمیرات پر مشتمل ہے، کہیں غیر معیاری کام سامنے نہیں آیا۔ اس عمارت کا کوئی بھی حصہ پبلک لائف میں یا کسی بھی ادارے یا شہری کے کام مین رکاوٹ نہیں ہے، یہاں ہزاروں سٹوڈنت پڑھتے ہیں، سینکڑوں ٹیچر پڑھاتے ہیں۔اس مادر علمی کی تمام  38 عمارتوں کی تعمیر پر مسلم اقلیتی کمیونٹی کا کثیر سرمایہ صرف ہوا۔ اس کو بلا جواز غیر معقول بہانے بنا کر گرانے کی سازش دراصل تو آدتیا ناتھ کی ہر مسلمان کے گھر، دوکان، مدرسہ، مسجد کو بلڈوزر چڑھا کر گرا دینے کی شدید خواہش کا ہی ایک اظہار ہے۔ اس یونی ورسٹی کو گرانے سے صرف ہندوتوا کے پجاریوں کے سوا کسی کا کوئی فائندہ نہیں ہو گا۔ 

 ایک وقت میں سماج وادی پارٹی کے نمایاں مسلم رہنما اور رام پور کی سیاست کی مضبوط ترین شخصیت سمجھے جانے والے اعظم خان گزشتہ چند برسوں سے متعدد قانونی مقدمات کے باعث اور ریاست پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسندوں کے مسلسل قبضہ کے باعث  تھکے ہوئے  ہیں۔
بی جے پی حکومت کا دعویٰ  ہے کہ ’اتر پردیش بھر میں غیر قانونی قبضوں اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف یکساں کارروائی کی جا رہی ہے‘، جبکہ سماج وادی پارٹی، باقی اپوزیشن پارٹیاں اور انسانی ھقوق کے ادارے مسلسل یہ الزام عائد کرتے ہیں  کہ  مسلمانوں کو اور اب ’اعظم خان کو  فوجداری اور انتظامی کارروائیوں کے ذریعے خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فی الحال یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ تاہم 38 عمارتوں پر بلڈوزر چلیں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ یونیورسٹی کی قانونی حکمت عملی اور عدالت میں ہونے والی کارروائی کے نتیجے پر منحصر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں