
( ویب ڈیسک )دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، معاشی غیر یقینی اور توانائی کے بحرانوں کے باعث سونا ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں مرکزی بینکوں سے لے کر عام صارفین تک اسے دولت محفوظ رکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم طویل مدت میں سونے کی کارکردگی نے سرمایہ کاروں کو متوجہ رکھا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2000 کے بعد سے جسمانی سونے نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں سونے کی قدر میں تقریباً 122 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق جنگوں، مہنگائی اور عالمی معاشی بے یقینی کے ماحول میں سونا ایک ایسے اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کرنسیوں اور مالیاتی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کویت ایئرپورٹ پر پروازیں معطل، چوتھی بار سائرن بج اٹھے!
رپورٹ کے مطابق ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کے پھیلاؤ کے بعد سونے میں سرمایہ کاری پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گئی ہے، جس سے عام سرمایہ کاروں کی رسائی بھی بڑھی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت صرف حالیہ قیمتوں کے بجائے طویل مدتی مالی اہداف، خطرات اور مارکیٹ کے حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
عالمی حالات میں غیر یقینی برقرار رہنے کے باعث سونا اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے، اگرچہ اس کی قیمتوں میں قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔






