7

مہنگائیبجلی گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں بڑھوتری اور’’بنامِ سرکار‘‘

(24نیوز)عوامی پروگرام’’بنامِ سرکار‘‘میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں بڑھوتری اور حکومت کی معاشی کارکردگی کاجائزہ لیاگیا۔

’’بنامِ سرکار‘‘ کا آغاز معروف اینکر زوہیب سلیم بٹ نے کیا، پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی اور مہنگائی کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کیا۔
پروگرام کے آغاز میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے عوام سے سوال کیا کہ کیا مہنگائی میں واقعی کمی ہوئی ہے؟ اس کے جواب میں بیشتر شرکاء نے کہا کہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں مہنگائی میں کوئی واضح کمی نظر نہیں آئی جبکہ چند افراد نے رائے دی کہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں معمولی فرق ضرور آیا ہے، لیکن مجموعی طور پر مہنگائی اب بھی عام آدمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
 کچھ شرکاء نے ’’پتہ نہیں‘‘ کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ بازاروں میں مختلف مقامات پر قیمتیں الگ الگ ہونے کی وجہ سے درست صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔اس کے بعد اینکر نے سوال کیا کہ کیا آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے؟ شرکاء نے بتایا کہ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے،  تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ مہنگائی کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پروگرام کے دوران بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے؟ اس پر کئی شرکاء نے رائے دی کہ حکومتی اقدامات عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جبکہ بعض افراد کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات عالمی حالات کا بھی نتیجہ ہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اور فوری اقدامات کرے۔


ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ مہنگائی میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے؟ شرکاء کی آراء مختلف رہیں۔ بعض نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مارکیٹوں میں مؤثر نگرانی کے فقدان کو بھی مہنگائی کی بڑی وجوہات قرار دیا۔
پروگرام میں گراں فروشی کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور شہریوں نے کہا کہ سرکاری نرخ نامے موجود ہونے کے باوجود کئی دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث گراں فروشی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کی نگرانی کریں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں توسیع،نوٹم جاری
اختتام پر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے کہا کہ ’’بنامِ سرکار‘‘ کا مقصد عوام کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے،عوام مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلٹی بلز اور روزمرہ اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے حکومت، متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ مہنگائی پر قابو پانے، گراں فروشی کے خاتمے اور اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ عام شہری کو حقیقی اور پائیدار ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں