
(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس کے ناقص تفتیشی نظام اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی مگر آئی جی پنجاب نے ابھی تک عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا، اگر آئی جی عدالتی فیصلے پر عمل کر لیتے تو آج یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔
عدالت نے عندیہ دیا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا تو آئی جی پنجاب عبد الکریم کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے باؤنس چیک کے مقدمہ میں ملزم گلشن اعجاز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، سماعت کے دوران ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل حافظ اصغر علی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئی جی پنجاب کو آگاہ کیا جائے کہ یا تو عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں اور اگر فیصلہ پسند نہیں تو اسے قانونی طور پر چیلنج کریں، لیکن عدالتی احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ڈی پی او سرگودھا نے متعلقہ تفتیشی افسر کی ناقص تفتیش، اختیارات سے تجاوز اور سنگین بے ضابطگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیشی افسر کے خلاف دفعہ 155-C کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم عدالت نے استفسار کیا کہ جب معاملہ اختیارات سے تجاوز اور دیگر جرائم کا بنتا ہے تو تعزیرات پاکستان کی دیگر متعلقہ دفعات بشمول دفعہ 547، کیوں شامل نہیں کی گئیں۔
عدالت نے ڈی پی او کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مفصل رپورٹ طلب کر لی، جس پر ڈی پی او نے مہلت کی استدعا کی تو عدالت نے انہیں دوپہر بارہ بجے تک رپورٹ جمع کرانے کی مہلت دے دی۔جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیئے کہ کسی مقدمہ کی ضمنی رپورٹ کسی ملزم کو فراہم کرنا چوری کے زمرے میں آتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ متعلقہ تفتیشی افسر کے خلاف ان الزامات کے مطابق دفعات کیوں عائد نہیں کی گئیں؟عدالت نے پولیس رولز 1934 کے متعلقہ قواعد پڑھ کر سنائے اور یاد دلایا کہ 2024 کی ترمیم کے بعد تمام ضمنی رپورٹس ڈیجیٹل طریقے سے مرتب کرنا لازم قرار دیا جا چکا ہے۔
عدالت نے کہا کہ جب کوئی مقدمہ زیر تفتیش ہو تو روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل ضمنی لکھی جائے، افسران بالا کو بھجوائی جائے اور اس کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔ ڈی پی او سرگودھا نے عدالت کے سوال پر اس قانونی تقاضے سے اتفاق کیا،عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عملی طور پر اب بھی پرانے طریقہ کار پر عمل ہو رہا ہے، تفتیشی افسران خود ضمنی لکھنے کے بجائے رائٹرز سے کام لیتے ہیں اور بعض اوقات جس ملزم کے حق میں ضمنی لکھی جاتی ہے، اسے اس کی فوٹو کاپی بھی فراہم کر دی جاتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس میں مالی مفاد شامل ہے یا نہیں، یہ اللہ بہتر جانتا ہے، تاہم ایسے اقدامات پورے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دیدیا
جسٹس محمد طارق ندیم نے نشاندہی کی کہ متعلقہ مقدمہ میں ضمنی نمبر 11 کے بعد براہ راست ضمنی نمبر 13 درج کی گئی جبکہ ضمنی نمبر 12 موجود ہی نہیں جو ریکارڈ کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ڈی پی او سرگودھا نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ابتدائی انکوائری کے مطابق اس مقدمہ میں ناقص تفتیش، اختیارات سے تجاوز اور دیگر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بظاہر رشوت کا عنصر بھی موجود ہو سکتا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ محض شبہ کی بنیاد پر نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، البتہ اگر کرپشن ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افسر کے خلاف انسدادِ بدعنوانی کی دفعات کے تحت بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس سے قبل بھی پولیس کو ہدایت کی گئی تھی کہ تمام تفتیشی کارروائی کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جائے، ہر ضمنی رپورٹ ڈیجیٹل نظام میں مرتب ہو اور متعلقہ افسران اس پر دستخط کریں، مگر افسوس کہ ان عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے کہا کہ پولیس کا نظام تو ڈیجیٹل قرار دیا جا رہا ہے لیکن عملی طور پر تمام اختیارات اب بھی تفتیشی افسر کے پاس ہیں، جس سے بے ضابطگیوں کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ آئی جی پنجاب کو بتایا جائے کہ آخر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں کون سی رکاوٹ حائل ہے، اور اگر وہ عمل درآمد نہیں کر سکتے تو عدالت آئندہ سماعت پر انہیں طلب کر لے گی۔
عدالتی وقفے کے بعد ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی تو عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ روز کی مہلت دے دی اور کیس کی مزید سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی۔






