8

بینک چھوٹےکاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اضافہ کریں وزیراعظم کی ہدایت

(24نیوز)  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،بینک ترجیحی شعبوں، بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر، کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔وزیرِاعظم نے یہ ہدایات  پرائم منسٹر ہاؤس میں “ایکسیس ٹو فائنانس پلان” کے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس مین جاری کیں۔

اس اجلاس میں وزیراعظم کو ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی۔

 وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔

ایکسیس ٹو فائنانس پلان کے اہداف میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی تعداد اور قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ شامل ہے،

نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،

ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد 310,000 سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 750,000 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی ترجیحات میں مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے،

اجلاس میں معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ایکسیس ٹو فائنانس پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی-

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانا پلان کا مرکزی نکتہ ہے۔ برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پلان کا بنیادی مقصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہائی کورٹ میں املاک کی توڑ پھوڑ کے پانچ سال پرانے مقدمہ کا ملزم وکیل لاپتہ 

عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

وزیرِ خزانہ نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان شریک سربراہ ہوں گے۔

گورننس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

نئے گورننس اسٹرکچر کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں،

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیئے: “مرسوں مرسوں، سندھو نہ دےسوں”؛ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف کراچی میں احتجاج اتوار کو ہو گا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں