
(ویب ڈیسک) فلسطین میں مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید خونریز جھڑپ کے بعد مزید کشیدگی کو ہوا دینے والے واقعات ہو رہے ہیں۔ تقریباً 20 آباد کار مغربی کنارے کے اس گاؤں میں غیر مجاز ‘ہائیک’ کے لیے داخل ہوئے، یہ وہی گاؤں (قصبہ) ہے جہاں کل جمعہ کے روز ہلاکت خیز جھڑپ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے آرمی ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 انتہاپسند آباد کار آج ہفتہ کے روز دن کے اوائل میں نابلس کے جنوب میں واقع فلسطینی گاؤں ٹیل میں “ہائیک” کی آڑ میں داخل ہوئے۔
یہ نام نہاد “ہائیک”، جو کہ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس کے علم میں لائے بغیر کی گئی، جمعے کو اسی گاؤں میں اسی طرح کے ایک واقعے کے بعد ہوئی جس کے نتیجہ میں ایک مہلک تصادم ہوا جس میں دو اسرائیلی اور چار فلسطینی مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیئے: تھنڈر سٹارم کہاں کہاں آئے گاِ موسلا دھا ر بارش کہاں؟ آج رات اور کل کیلئے فورکاسٹ
رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے گاؤں ٹیل میں آج آباد کاروں کی دراندازی کے نتیجے میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ واقعہ (نام نہاد ہائیک) ابھی جاری ہے۔
שוב: קבוצה של כ-20 מתיישבים נכנסה לפני זמן קצר לכפר הפלסטיני תל ליד שכם, ל״סיור״ בתוך שטחי הכפר. הסיור לא מתואם ולא מאושר על ידי כוחות הביטחון – והמתיישבים ללא אבטחה או ליווי של גורם מוסמך. ה״סיור״ בכפר מתבצע יממה בלבד לאחר הסיור אתמול בשעות הבוקר המוקדמות – שהסתבך והוביל… pic.twitter.com/Vl08FAWqff
— דורון קדוש | Doron Kadosh (@Doron_Kadosh) July 25, 2026
یہ بھی پڑھیئے: فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی مزید اشتعال انگیزی، راتوں رات چار غیر قانونی چوکیاں کھڑی کر لیں
یہ بھی پڑھیئے: مغربی کنارے کے گاؤں میں چار فلطینیوں کے قتل کے بعد باقی مکینوں کی شامت، اسرائیلی فوج نے ایک رات میں 70 گرفتار کئے






