4

خوفناک مناظر اور چیخ و پکار! چین سے سامنے آنے والی ویڈیو نے دل دہلا دئیے 

(ویب ڈیسک )طاقتور سمندری طوفان ‘نول’ جنوبی چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں شدید ہوائیں، موسلا دھار بارش اور خراب موسم نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے اسے رواں سال چین سے ٹکرانے والا طاقتور ترین ٹائفون قرار دیا ہے، حکام نے گوانگ ڈونگ صوبے سے 7 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ میں سمندری طوفان کی تباہ کاریاں، ہزاروں افراد کی نقل مکانی، ریڈ الرٹ جاری

چین کے قومی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان اتوار کی علی الصبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3 بج کر 50 منٹ پر جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر ہوئی ژو کی ہوئی ڈونگ کاؤنٹی کے ساحل سے ٹکرایا۔

 یہ بھی پڑھیں:بارشوں کا نیا اسپیل!پی ڈی ایم اے کا ایک اور الرٹ جاری

 محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان اندرونِ گوانگ ڈونگ کی جانب بڑھتے ہوئے بتدریج کمزور ہو رہا ہے، تاہم اس کے باعث مختلف علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہوائیں جاری رہیں گی۔

سرکاری نشریاتی ادارے چائنا نیشنل ریڈیو کے مطابق اتوار کی صبح تک گوانگ ڈونگ میں 7 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو احتیاطی تدابیر کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا تھا، جبکہ ہفتے کے روز حکام نے تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار افراد کے انخلا کی اطلاع دی تھی۔

 چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران جنوبی گوانگ ڈونگ اور جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے بعض علاقوں میں مزید شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔

سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کے مطابق گوانگ ڈونگ کے ساحلی ضلع ہوئی لائی میں طوفان کے باعث متعدد درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے۔

 دوسری جانب ہانگ کانگ ایئرپورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ خراب موسم کے باعث 350 کے قریب پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ مقامی حکام کے مطابق طوفان کے دوران مختلف واقعات میں کم از کم 9 افراد زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق طوفان کے قریب پہنچنے سے قبل ہفتے کی سہ پہر ہانگ کانگ میں ایک بلند و بالا عمارت پر نصب عارضی تعمیراتی ڈھانچے کا کچھ حصہ گر گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر تائیوان کے مرکزی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ طوفان نول کے باعث جنوبی اور مشرقی تائیوان کے بعض علاقوں میں بارش ہوئی، تاہم طوفان جزیرے کے جنوب میں سمندری راستے سے گزرتے ہوئے اس سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی ٹائفون باوی نے مشرقی چین میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ ٹروپیکل اسٹورم مایساک بھی جولائی کے اوائل میں جنوبی چین سے ٹکرایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں