1

مصر کی دامی اطاح پورٹ پر کھڑے امریکی گیس ٹینکر پر ڈرون کا حیرت انگیز حملہ

 (ویب ڈیسک)  مصر کی بندر گاہ دامی اطاح پر ڈرون کا حملہ ہوا۔ ڈرون کے اس حملے کا نشانہ بننے والے دو  بحری جہازوں میں آگ لگ گئی۔ اس ڈرون حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔  جہازوں پر لگنے والی آگ کچھ دیر بعد بجھا دی گئی۔ تاہم یہ حملہ کس نے کیا اور ڈرون کہاں سے اڑایا گیا یہ سوال تشویش کا باث بن گیا ہے۔ 

برطانوی بحری سکیورٹی کمپنی کنے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ایک امریکی گیس سٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ 

آج سامنے آنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق مصر کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ دامی اطاح (Damietta Port) پر ایک ڈرون حملہ ہوا، جس نے پورے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

واقعے کی تفصیل
ڈرون کا یہ حملہ 29 جولائی کو دامی اطاح بندرگاہ میں کھڑے ایک امریکی ملکیت کے فلوٹنگ ایل این جی سٹوریج  بحری ٹینکر  Energos Winter پر کیا گیا۔
ڈرون یا نامعلوم فضائی ہتھیار کے ٹکرانے سے جہاز میں آگ لگ گئی، جو بعد میں اس ٹینکر جہاز کے قریب موجود دوسرے گیس بردار جہاز Gaslog Salem تک پھیل گئی۔

Caption دیمی اطاح پورٹ پر موجود گیس ٹینکروں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ سکرین شوٹ ایک نیوز ایجنسی کی ویڈیو فوٹیج سے لیا گیا۔ 

مصری حکام نے فوری کارروائی کر کے  آگ پر جلد قابو پا لیا  اور کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
حملہ کس نے کیا؟ ذمہ داری  کس نے قبول کی؟
یہ ڈرون حملہ ہونے کے بعد اب تک کسی گروہ یا ملک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مصر کی حکومت نے صرف اتنی تصدیق کی ہے کہ یہ ڈرون حملہ تھا اور تحقیقات جاری ہیں۔
ایران کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟
متعدد بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے،   بعض تجزیہ کار اور بعض میڈیا رپورٹس اس حملے کو ایران سے جوڑ رہی ہیں۔
مصری حکومت نے باضابطہ طور پر کسی ملک یا تنظیم کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ بعض غیر سرکاری رپورٹس میں ایرانی ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس حملے کی سٹریٹیجک اہمیت
دامی اطاح مصر کی اہم ایل این جی (Liquefied Natural Gas) برآمدی بندرگاہ ہے۔ مصر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مین عملاً غیر جانبدار ہے بلکہ ثالثی کی کوششوں میں پیش پیش رہا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ تین سال کے دوران اسرائیل اور حماس کی جنگ میں مسر کا کردار ثالث کا رہا ہے۔ مصر کی بندرگاہ پر  اس حملہ کو غیر معمولی واقعہ کی حیثیت سے لیا جا رہا ہے۔
دامی اطاح کی بندرگاہ آبنائے سویز کے قریب واقع ہے،  اس بندرگاہ  پر حملہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے تشویش کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔

ڈرون ایرانی تھا تو کہاں سے اڑا، کس روٹ سے گزرا؟

اگر مصر کی دامی اطاح پورٹ پر حملہ کرنے والا ڈرون ایرانی تھا تو یہ ممکنہ طور پر کہاں سے آیا ہو گا اور اس کا کیا روٹ رہا ہو گا؟
 یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر دامی اطاح پورٹ پر حملہ واقعی ایرانی ڈرون نے کیا تھا، تو  اس مفروضے کے تحت سب سے پیچیدہ سوال یہ ہے کہ ڈرون کہاں سے اڑایا گیا؟

ایران سے براہ راست پرواز کا سب سے کم امکان سمجھا جا رہا ہے ۔
ایران سے دامی اطاح (Damietta) تک سیدھا فاصلہ تقریباً 1,500 سے 2,000 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہے، جو  کسی یک طرفہ خودکش ڈرون کے لیے ایک مشکل مشن ہے، خاص طور پر جب راستے میں متعدد ممالک کی فضائی نگرانی موجود ہو۔
ایرانی ڈرون کے مفروضے کو لے کر اس کی لانچنگ کے متعلق دوسرا امکان یہ ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ یہ عراق یا شام سے  کسی ایرانی حمایت یافتہ گروہ نے  لانچ کیا۔  عراق یا شام سے لانچ  کی صورت میں بھی اس ڈرون کو اردن یا اسرائیل اور پھر مصر کی فضا سے یا فضائی ماحول کے قریب سے گزرنا پڑتا، جہاں فضائی دفاع اور ریڈاروں کی موجودگی ایک بڑا چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  امریکا کے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے 
لیبیا یا بحیرۂ روم سے لانچ کے امکان پر بعض تجزیہ کار سنجیدگی سے غور کر رہے ہی۔ اس ضمن میں یہ مفروضہ ڈسکس کیا جا رہا ہے  کہ ممکن ہے، یہ ڈرون بحیرہ روم میں موجود  کسی کشتی یا تجارتی جہاز سے مصر کی دامی اطاح پورٹ کے  نسبتاً قریب جا کر چھوڑا گیا ہو۔
صرف اس صورت میں پرواز کا فاصلہ بہت کم ہو جاتا ہے اور ڈرون کسی ملک خصوصاً اسرائیل اور اردن کے ریڈاروں اور ائیر ڈیفینس کی نظر میں آئے بغیر دامی اطاح پورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ صرف اس روٹ سے حملہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے حق میں فی الحال کوئی  ثبوت سامنے نہیں آیا۔
مصر کے اندر سے لانچ  بھی ایک نظریاتی امکان ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ دامی اطاح کی پورٹ پر پہنچنے والا ڈرون مصر کے اندر کسی مقام سے یا  مصر کی سرحد کے قریب سے اڑایا گیا ہو۔
دنیا کے کئی ڈرون حملوں میں لانچ پوائنٹ ہدف سے چند درجن یا چند سو کلومیٹر کے اندر ہوتا ہے۔ یوکرائن جنگ میں یوکرائن کے ڈرون روس کے اندر بہت دور تک پہنچے لیکن ایسے ہر حملے میں یہ سامنے آیا کہ  دور جا کر حملہ کرنے والے ڈرون کو کسی طرح  پہلے روس کے اندر پہنچایا گیا تھا پھر مناست فاصلے سے لانچ کیا گیا تھا۔ ۔
اس وقت تک کوئی معتبر شواہد یہ نہیں بتاتے کہ ڈرون:

ایران سے براہ راست آیا،
عراق، شام یا یمن سے آیا،
یا کسی بحری جہاز سے لانچ کیا گیا۔
یہ تمام امکانات صرف عسکری تجزیے کی سطح پر زیر بحث ہیں، ان میں سے کسی کی بھی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

مصر کے ایئر ڈیفنس اور ریڈار نے اسے پہلی مرتبہ کہاں دیکھا؟
 یہ معلومات اب تک سامنے نہیں آئیں کہ مصر کے ریڈر اور ائیر ڈیفینس سسٹم نے دامی اطاح پورٹ پر کامیاب حملہ کرنے والے ڈرون کو کب، کہاں دیٹیکٹ کیا؟ کہا جا رہا ہے کہ مصر کی طرف سے یہ معلومات سامنے  آ جائیں تو تقریباً آدھا معمہ حل ہو جائے گا۔

اگر ڈرون کی مصری ریڈر سسٹم پر پہلی نشاندہی مصر کے ساحل سے 20 کلومیٹر پہلے ہوئی تو امکان ہے کہ وہ سمندر سے آیا ہو گا۔
اگر سینا کی طرف سے آیا تو جنوب مشرقی راستہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہ راستہ ممکنہ طور پر اسرائیل اور اردن کی فضائی حدود سے گزرنے کی پیچیدہ صورتحال  کی نشاندہی کرے گا۔
اگر مغرب سے آیا تو لیبیا یا بحیرہ روم والا امکان مضبوط ہوتا ہے۔

حملے کا سیاسی تناظر

مصر واقعی اس وقت ایران، امریکہ  تنازعہ کا فریق نہیں بلکہ ثالث (mediator) تھا۔  بظاہر مصر کی پورٹ پر حملہ غیر منطقی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی تنازعات میں “ہدف” اور “پیغام” ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ اس واقعے کی  یہ ممکنہ تشریح کی جا رہی ہے کہ ہدف مصر نہیں بلکہ مصری پورٹ پر موجود امریکی اثاثہ تھا۔
جس جہاز Energos Winter کو نشانہ بنایا گیا،، وہ امریکی ملکیت سے منسلک گیس سٹوریج جہاز تھا۔ اگر حملہ آور کا مقصد امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا تھا، تو جغرافیائی طور پر حملہ مصر میں ہوا اور مصر کی سکیورٹی پر ضرب لگی، لیکن سیاسی طور پر پیغام امریکہ کو  گیا۔ 

“کوئی محفوظ جگہ نہیں”  ؟
اگر یہ حملہ واقعی ایران یا اس کے کسی اتحادی نے کیا، تو ایک ممکنہ منطق یہ ہو سکتی ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ صرف خلیج فارس یا بحیرہ احمر ہی نہیں، بلکہ بحیرہ روم کے توانائی کے مراکز بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔ یہ نفسیاتی اور معاشی دباؤ کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
ثالثی کی حیثیت حملے سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں
تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب ثالثی کرنے والے ممالک بھی حملوں یا دباؤ کا نشانہ بنے، اگر ان کی سرزمین پر کسی مخالف فریق کے فوجی یا معاشی مفادات موجود تھے۔ اس لیے “مصر ثالث ہے” اور “مصر میں موجود امریکی اثاثہ محفوظ رہے گا” یہ دونوں باتیں لازماً ایک ہی نتیجہ نہیں دیتیں۔

 
 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں