1

امریکہ نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ سے نکلنے کا الرٹ دے دیا

(ویب ڈیسک) امریکہ نے ایران کے تیل، گیس اور بجلی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے سے پہلے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ سے نکلنے کا اشارہ دے دیا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے آج رپورٹ کیا ہے کہ یروشلم اور مشرق وسطیٰ کے دیگر دارالحکومتوں میں امریکی سفارت خانوں نے بعد میں امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ خطے کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ امریکی سفارتخانوں نے مشرق وسطیٰ میں رہنے والے امریکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ  علاقہ کو چھوڑنے پر غور کریں یا “غیر متوقع ایسکلیشن کے امکان” کی وجہ سے نکلنے کے لیے تیار رہیں۔

مشرق وسطٰیٰ کے کئی ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے اپنی متعلقہ ویب سائٹس پر شائع ہونے والے یکساں پیغامات میں کہا کہ “ایرانی حکومت  کا رویہ غیر متوقع ہے، جیسا کہ اس کے حالیہ فیصلوں سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ خطہ کے علاقوں پر بغیر وارننگ یا اشتعال انگیزی کے حملے کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں تک حملوں کو وسعت دے گا جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا (جیسے مصر)”۔

اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہونے سے پہلے جیسی بات چیت  نہیں ہو سکی۔ ابتدائی درجہ کی بات چیت ہوئی جو رک گئی تھی۔ پھر تقریباً ایک ماہ قبل جنگ بندی ختم ہو گئی تھی اور ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں، جو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ پھر امریکہ نے مسلسل ڈیڑھ ہفتے تک روزانہ ایرانی تنصیبات پر ائیر سٹرائیکس کین اور ایران نے ان حملوں کا مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں محدود حملے کر کے جواب دیا۔ 

اب گزشتہ ڈیڑھ دن سے امریکہ ایران پر کوئی حملہ نہیں کر رہا لیکن آج ہفتہ کے روز یہ بات مؤثق صحافتی ذرائع سے سامنے آ رہی ہے کہ امریکہ ہفتہ یا اتوار کی رات ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کر سکتا ہے جو زیادہ تر تیل، گیس اور بجلی کے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لئے ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف 

یہ بھی پڑھیں:  ایران پر کئی روز طویل ائیر سٹرائیکس آج شروع ہو سکتی ہیں، وال سٹریٹ جرنل 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں