
(ویب ڈیسک) ہفتہ کے روز بعض میڈیا رپورٹس میں یہ کہا گیا کہ امریکہ ایران پر جس بڑے مسلسل حملے کی تیاری کر رہا ہے اس میں اسرائیل بھی شریک ہو گا۔ اس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا اسرائیل واقعی ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ میں شریک ہو گا یا نہیں۔
امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کے جو مذاکرات پاکستان نے شروع کروائے تھے ان کے سبب اپریل کے دوسرے ہفتے جنگ عملاً بند ہو گئی تھی۔ بعد میں سوئٹزر لینڈ میں جو عبوری جنگ بندی معاہدہ ہوا وہ کچھ دن بعد ٹوٹ گیا جب دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے شروع کر دیئے۔ اسرائیل ابتدا سے ہی ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاملہ میں فریق نہیں تھا لیکن وہ اپریل کے پہلے ہفتے کے اواخر میں جنگ بند ہونے کے بعد سے ایران کے ساتھ جنگ سے عملاً دور ہے۔ اب اچانک یہ کہا جانے لگا ہے کہ ایران ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بننے جا رہا ہے اور اسرائیل بھی امریکہ کے ساتھ مل کر ائیر سٹرائیکس کرے گا۔
یہ قیاس آرائی کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل افہام و تفہیم کا فریق نہیں تھا اور وہ ایران پر حملوں کو روکنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ممکنہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں متضاد اطلاعات
اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ نئے حملوں میں شامل ہونے کی رپورٹ وال سٹریٹ جرنل نے شائع کی تھی۔ اس کے بعد منصوبہ بند حملوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے امکان کے متعلق شروع ہونے والی قیاس آرائیوں کے بیچ CNN نے اطلاع دی ہے کہ آج ہفتے کے روز تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ اسرائیل ممکنہ حملے میں حصہ لے گا۔
سی این این کی رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب ایک اور امریکی نیوز آؤٹ لیٹ CBS کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایرانی توانائی کی تنصیبات پر بم حملے کی مشترکہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اے بی سی نیوز نے اس سے کچھ مختلف رپورٹ کیا اور ایک ذریعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملوں پر اسرائیلی حکام سے بات چیت کی گئی ہے لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل نئے حملوں میں براہ راست ملوث ہوگا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اس معاملہ پر اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ کے ساتھ اپنی پہلی ذاتی بات چیت کے لیے اس ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، اس ملاقات کو “ان چیزوں پر ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک موقع قرار دیا جو سلامتی اور اسرائیل کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: ایران پر کئی روز طویل ائیر سٹرائیکس آج شروع ہو سکتی ہیں، وال سٹریٹ جرنل
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بات چیت کے مواد سے متعلق چند تفصیلات کو عام کیا گیا۔ نیتن یاہوکے وفد میں شامل ایک سینئر اہلکار نے دھرنے کے فوراً بعد دی ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ انہوں نے “تمام میدانوں کے بارے میں بات کی – بنیادی طور پر ایران۔”
امریکی حملے کے منصوبوں کی رپورٹ پبلک ہونے کے بعد، ایران کی فوج نے امریکہ پر مشرق وسطیٰ میں “تناؤ بڑھانے” کا الزام عائد کرتے ہوئے خطے کے ممالک کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنےسے باز رہنے کے لئے کہا اور تعاون کرنے والے ملکوں کو نتائج کے خلاف خبردار کیا۔
ایران کی ملٹری سینٹرل کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا، “امریکہ تیزی سے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے راستے پر گامزن ہے۔” “جرائم پیشہ اور جارح امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال کے طور پر کام کرنے والا کوئی بھی ملک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔”
‘اسرائیل کے دفاع کے لیے ناکافی بحری وسائل’کی وارننگ
ممکنہ طور پر جنگ کی بحالی امکان کے ساتھ، واشنگٹن پوسٹ نے آج ہفتہ کے روز یہ رپورٹ کیا کہ امریکی فوج کی یورپی کمان کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوچ نے اس ہفتے پینٹاگون کو ایک تحریری انتباہ بھیجا ہے کہ اگر انہیں بحریہ کا ایک اور ڈسٹرائر نہیں ملا تو وہ “اسرائیل کے دفاع پر امریکہ کے ‘وطن’ کے دفاع کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
امریکی فوج کی یورپی کمان بحیرہ روم میں کارروائیوں کو مربوط کرتی ہے، جہاں اس کے جہاز ایران اور یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں کو مار گرانے میں مدد کرتے ہیں۔ اخبار کے مطابق، یورپی کمان کے پانچ میں سے دو روٹا، سپین میں مقیم ڈسٹرائیر جمعہ تک بحیرہ روم میں تعینات تھے۔
گزشتہ روز مصر کی ایک بندرگاہ پر کھڑے امریکی گیس ٹینکر پر ڈرون حملے کے بعد یہ سوال سامنے آیا تھا کہ مصر کی بندرگاہ تک ایرانی ڈرون کس راستے سے پہنچا۔ اب اس سوال کا جواب دیئے بغیر امریکہ کے سینئیر جنرل نے وائٹ ہاؤس کو یہ بتایا کہ ان کے پاس وسائل بیک وقت امریکہ اور اسرائیل کے مفادات اور تنسیبات کے دفاع کے لئے کافی نہیں ہیں۔
یورپی کمان نیٹو کی سرزمین میں ممکنہ روسی دراندازی اور روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لاحق خطرے سے تحفظ کے لیے بھی ذمہ دار ہے، جو کہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں لیکن آج کہ وہ صرف بحیرہ روم پر ہی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔
اسرائیل حملے کر سکتا ہے؟
اس ہفتے کے شروع میں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ اسرائیل “بہت زیادہ” ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے، لیکن امریکہ “اس وقت اس کی منظوری نہیں دے رہا ہے کیونکہ اس خدشے کے پیش نظر کہ ایران ہمسایہ ممالک پر حملہ کرے گا، جس سے تیل کا عالمی بحران پیدا ہو جائے گا۔”
یہ بھی پڑھیئے: کویت پر ہفتہ کے روز ایک اور ایرانی ڈرون حملے کی تصدیق
ایران کی فوج نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ پر حملوں کے لیے آگے بڑھنے کا انتخاب کیا تو مشرق وسطیٰ کی جنگ وسیع ہو جائے گی، فوج کے ترجمان محمد اکرمیہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ اسرائیل امریکہ کو دوبارہ حملوں پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کی دھمکیوں کا واحد ہدف اسرائیل نہیں ہے، کیونکہ سعودی عرب نے اس ہفتے کے شروع میں عراق میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپوں پر حملہ کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف






