
(24 نیوز)برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ماہ نئی دہلی میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کی جانب سے پیلٹ گن استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے متعدد زخمیوں کے زخموں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں پیلٹ گن سے لگنے والے زخم قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بیلسٹک فرانزک ماہر فلپ بوائس نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین کے زخم واضح طور پر پیلٹ گن سے فائر کیے گئے چھروں کے نشانات ظاہر کرتے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی ایک زخمی مظاہرے سے ملاقات کے بعد پولیس پر پیلٹ گن استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق ماہرین نے کم از کم 4 ایسے کیسز کا جائزہ لیا جن میں مظاہرین کو پیلٹ گن سے لگنے والے زخموں کا علاج فراہم کیا گیا، فلپ بوائس کا کہنا تھا کہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی پولیس نے غالباً 12 گیج پمپ ایکشن شاٹ گن استعمال کی، جبکہ برڈ شاٹ (چھروں) سے لگنے والے زخم انتہائی خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:اے آئی کمپنیاں لاکھوں نایاب کتابیں کیوں تلف کر رہی ہیں؟ حیران کن حقیقت سامنے آگئی
آرمامنٹ ریسرچ سروسز (ARES) کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کی تصاویر برڈ شاٹ کے استعمال سے “بہت حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے زخم متاثرہ افراد کے لیے عمر بھر کی معذوری یا بعض صورتوں میں جان لیوا نتائج کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ جسم میں زہریلا سیسہ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔
رپورٹ میں 2 ایسے مظاہرین کا بھی ذکر کیا گیا جو 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک سینئر اسپتال عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ متاثرین کے زخم ’پیلٹ نما چھوٹے ذرات‘ سے لگے تھے






