
(24 نیوز) مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کو ایک نئے اخلاقی اور علمی بحران سے دوچار کر دیا ہے، حالیہ تحقیقات کے مطابق کئی بڑی اے آئی کمپنیاں اپنے ماڈلز کو مزید بہتر بنانے کے لیے لاکھوں پرانی، نایاب اور قیمتی کتابیں خرید کر انھیں اسکین کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے تلف کر رہی ہیں، جس پر ماہرین اور مؤرخین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی میڈیا کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران کتب فروشوں کے پاس غیر معمولی تعداد میں آرڈرز موصول ہوئے ہیں،کئی کتب فروشوں کا کہنا ہے کہ جو دکانیں پہلے ہفتے میں صرف 20 کتابیں فروخت کرتی تھیں، اب وہ سینکڑوں کتابیں فروخت کر رہی ہیں، جب کہ اس بڑے پیمانے پر خریداری کے پیچھے مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خریدی جانے والی کتابوں میں نایاب تاریخی نسخے، محدود اشاعتیں، ذاتی ڈائریاں، جرائد اور ایسے تاریخی ریکارڈ بھی شامل ہیں جن کا کوئی متبادل موجود نہیں،ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ غیرمعیاری مواد میں تیزی سے اضافے کے باعث نئی نسل کے اے آئی ماڈلز کو زیادہ مستند، معیاری اور انسانوں کے لکھے ہوئے متن کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے مطبوعہ کتابیں قیمتی تربیتی مواد سمجھی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:سام سنگ کے نئے جدید ترین فون کیسے ہیں؟ لیک نے فینز کے ہوش اڑا دیئے
اس عمل میں کمپنیاں کتابیں خرید کر ان کی جلد الگ کرتی ہیں، ہر صفحہ تیز رفتار اسکینرز سے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جب کہ اصل کتاب ناقابلِ استعمال ہو کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو Destructive Scanning کہا جاتا ہے،اے آئی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر یہ کتابیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ نہ کی گئیں تو ان میں موجود علم وقت کے ساتھ ضائع ہو سکتا ہے، جب کہ اسکین شدہ مواد مستقبل کی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
تاہم ناقدین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کسی کتاب کی اصل جسمانی حیثیت، اس کے نایاب ایڈیشن، مصنف کے دستخط، ہاتھ سے لکھی گئی حاشیہ آرائیاں اور تاریخی نوٹس محض ڈیجیٹل نقل سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل کتاب کا خاتمہ انسانی تہذیب اور ثقافتی ورثے کے ناقابلِ تلافی نقصان کے مترادف ہے،یہ معاملہ صرف اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ کئی بڑی اے آئی کمپنیوں کو کتابوں کے غیر مجاز استعمال پر کاپی رائٹ مقدمات کا بھی سامنا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت، دانشورانہ ملکیت اور مصنفین کے حقوق پر عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو دنیا کا قیمتی ادبی اور تاریخی سرمایہ نجی ڈیجیٹل ڈیٹا بیسز تک محدود ہو سکتا ہے، جب کہ اصل کتابیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی،اب دنیا ایک اہم سوال کے سامنے کھڑی ہے۔ کیا بہتر مصنوعی ذہانت کی خاطر لاکھوں کتابوں کو قربان کرنا درست ہے، یا انسان اپنی علمی اور ادبی میراث کو مشینوں کی ترقی کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہا ہے؟






