9

پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا لائحہ عمل تیار کر لیا

(اویس کیانی) پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن اور اصلاحات کا جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے، جسے رواں ماہ منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا،منظوری کے بعد اصلاحاتی پروگرام پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت گیس سیکٹر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر سمیت ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل اور اوگرا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اصلاحاتی منصوبے کے تحت سوئی کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور اَن بنڈلنگ کی جائے گی، جبکہ ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور انرجی کاروبار کو الگ الگ کیا جائے گا تاکہ گیس سیکٹر کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔

اصلاحات کے تحت سبسڈی کے نظام کو بھی ازسرِ نو ترتیب دیا جائے گا، تاکہ صرف مستحق صارفین کو ہدفی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت گیس مارکیٹ میں مرحلہ وار مارکیٹ کلیئرنگ پرائس کے نظام کی جانب پیش رفت کرے گی۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ عالمی بینک نے گیس سیکٹر اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت اور بین الاقوامی تجربات فراہم کیے ہیں تاکہ اصلاحاتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت گیس سیکٹر میں مسابقتی، شفاف اور مؤثر مارکیٹ کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ریگولیشن کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نظام بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ اوگرا کے کردار کو مزید مؤثر بنا کر مسابقتی گیس مارکیٹ کی نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں گیس سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی کا تحفظ مزید مضبوط ہوگا، قیمتوں میں شفافیت آئے گی، جبکہ سوئی کمپنیوں کا مالی مستقبل مستحکم ہونے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں