
(24 نیوز)نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد خراب موسم کے باعث عارضی طور پر معطل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 676 افراد ہلاک جبکہ قریباً 3 ہزار افراد لاپتا ہیں۔
سیلاب نے عمارتوں، سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی ہندو یاتریوں کی ہے۔
نیپال کے وزیر خزانہ سوارنیم واگل کے مطابق تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو پر ابتدائی اندازے کے مطابق 4 سے 5 ارب ڈالر لاگت آئے گی، تاہم نقصان کا حتمی تخمینہ ابھی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: تبت میں گلیشئیر گرنے سے بنی جھیل کا رقبہ سکڑ گیا، نیا فلیش فلڈ آنے کا خطرہ ٹل گیا
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی معاونت درکار ہے۔
اس میں سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنا، تباہ شدہ پلوں کے باعث منقطع مواصلاتی رابطے بحال کرنا، لاشوں کی شناخت، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی سہولیات شامل ہیں۔
بھارت کی سرنگوں سے ریسکیو کے ماہرین کی ٹیم نیپال پہنچ گئی ہے جبکہ چین نے بھی ماہرین بھیجے ہیں، بھارت کی جانب سے امدادی سامان پر مشتمل 3 پروازیں بھی بھیجی جاچکی ہیں۔
حکام کے مطابق بعض لاشیں ناقابل شناخت حد تک خراب ہوچکی ہیں، جن کے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تدفین کی جائے گی۔






