10

وزن کم کرنے والی دوا سے درجنوں اموات! طبی ماہرین نے خبردار کر دیا 

(ویب ڈیسک )وزن کم کرنے والی مقبول ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب نے برازیل میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ ادویات کی ایک بڑی مارکیٹ کو جنم دے دیا ہے، جبکہ حکام 83 اموات اور 3,600 سے زائد طبی پیچیدگیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اپریل میں پیراگوئے سے برازیل آنے والی ایک سیاحتی بس کی تلاشی کے دوران کسٹمز حکام نے ڈولسے دے لے کے جار کھولے تو ان کے اندر وزن کم کرنے والی دوا Mounjaro کے فعال جزو ٹرزیپیٹائڈ کی سیکڑوں شیشیاں چھپی ہوئی ملیں۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر ضبط کی گئی کھیپ میں 2,500 سے زائد شیشیاں شامل تھیں۔

یہ کوئی واحد واقعہ نہیں۔ برازیل کی سرحد پر حکام کو وزن کم کرنے والی ادویات موٹر سائیکل کے ایگزاسٹ پائپ اور جوتوں کے جعلی تلووں سمیت مختلف غیر معمولی مقامات سے بھی مل رہی ہیں۔

برازیل اس وقت وزن کم کرنے والی ادویات کی دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان میں GLP-1 گروپ کی ادویات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:5 سے 7 سال قید!کم عمر شادی  پرعدالت کا بڑا حکم جاری

سرکاری حکام اور طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ غیر قانونی اور غیر منظور شدہ انجیکشنز کا پھیلاؤ ایک بڑے صحتِ عامہ کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ برازیل میں 2018 سے اگست 2026 کے وسط تک وزن کم کرنے والی ادویات سے منسلک 83 اموات اور 3,600 سے زائد پیچیدگیاں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں 60 فیصد سے زیادہ کیسز 2025 اور 2026 کے دوران سامنے آئے۔

سرمایہ کاری بینک Itau BBA کے اندازے کے مطابق رواں سال برازیل میں وزن کم کرنے والی ادویات کی تقریباً 7 ارب ڈالر کی مارکیٹ کا 51 فیصد ایسے ذرائع سے آنے کا امکان ہے جن کی مکمل نگرانی نہیں کی جاتی، جن میں غیر رسمی طور پر تیار کی جانے والی ادویات اور پیراگوئے سے اسمگل شدہ مصنوعات شامل ہیں۔

تاہم رائٹرز کے مطابق ان غیر مجاز ادویات کا مذکورہ اموات اور پیچیدگیوں میں براہِ راست کردار آزادانہ طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔

غیر قانونی GLP-1 ادویات کی ضبطی میں بھی حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ برازیل کی اینٹی کاؤنٹر فٹنگ ایسوسی ایشن کے مطابق 2024 میں صرف 609 یونٹس ضبط کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 60,787 یونٹس تک پہنچ گئی اور رواں سال بھی ضبطیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف غیر قانونی ادویات کی مقدار کا نہیں بلکہ ان کی تیاری، ذخیرہ اور نقل و حمل بھی تشویش کا باعث ہے۔ خراب درجہ حرارت اور نامناسب اسٹوریج انجیکشنز کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

طبی ماہرین نے وزن کم کرنے والی ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں لبلبے کی شدید سوزش، خون میں شوگر کی کمی اور دیگر پیچیدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ برازیل کی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی Anvisa نے بھی خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال کے دوران بے ہوشی کی صورت میں معدے کے مواد کے پھیپھڑوں میں جانے اور نمونیا جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

برازیل کے ایک ڈاکٹر لیونارڈو سیبا کے مطابق غیر رسمی ذرائع سے حاصل کی جانے والی وزن کم کرنے والی ادویات اب صرف فارمیسیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سڑکوں، بیوٹی سیلونز، جم اور جاننے والوں کے ذریعے بھی دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اسے ’’منشیات کی اسمگلنگ‘‘ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں:سکولوں میں چھٹی کا اعلان!

غیر قانونی ادویات کی ایک بڑی وجہ ان کی کم قیمت بھی بتائی جاتی ہے۔ پیراگوئے سے آنے والی ایک غیر منظور شدہ دوا استعمال کرنے والی برازیل کی ایک شہری نے بتایا کہ وہ کم آمدنی کے باوجود وزن کم کرنے کی خواہش کے باعث یہ دوا خریدتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سستی اور قانونی متبادل ادویات کی دستیابی غیر قانونی مارکیٹ کی طلب کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مئی میں برازیل نے مقامی طور پر تیار کردہ Ozivy کی منظوری دی، جو Novo Nordisk کی Ozempic کا نسبتاً سستا متبادل ہے اور چار ہفتوں کی خوراک 100 ڈالر سے کم میں دستیاب ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب حکام وزن کم کرنے والی ادویات سے منسلک اموات کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک کیس میں 31 سالہ خاتون کی موت کا جائزہ لینے والے میڈیکل ایگزامینر کے مطابق دوا استعمال کرنے کے بعد ان کے خون میں شوگر خطرناک حد تک کم ہوگئی، وہ بے ہوش ہوئیں اور دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گئیں۔

اس کے باوجود برازیل میں بعض صارفین وزن کم کرنے والی ان ادویات کا استعمال ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ماہرین کے لیے یہی صورتحال سب سے بڑا خدشہ ہے کہ وزن کم کرنے کی بڑھتی ہوئی خواہش کہیں لوگوں کو غیر محفوظ اور غیر قانونی ادویات کے استعمال کی جانب مزید نہ دھکیل دے۔

 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں