8

ارجنٹینا میں سمندر خشک ہو گیا؟ نایاب’لو ٹائیڈ’ کی سائنسی وجہ سامنے آ گئی

(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی تھی جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ارجنٹینا کے ساحل سے سمندر پراسرار طور پر غائب یا مکمل طور پر خشک ہو گیا ہے  تاہم ماہرینِ موسمیات اور سائنسدانوں نے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کسی ماحولاتی آفت یا زلزلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نایاب قدرتی مظہر ہے۔ 

یہ واقعہ ارجنٹینا کے صوبے بیونس آئرس کے ساحلی شہر ‘مار ڈیل پلاٹا’ (Mar del Plata) میں پیش آیا جہاں چند گھنٹوں کے لیے سمندر کی سطح غیر معمولی حد تک نیچے گر گئی،وائرل ویڈیوز میں خشکی پر پھنسی ہوئی کشتیاں، گہرے سمندر کا خشک ہوتا ہوا تلا اور لوگ اس جگہ پیدل چلتے ہوئے دکھائی دیے جو عام طور پر پانی کے نیچے ڈوبی رہتی ہے۔ 

ارجنٹینا کے مقامی اخبار  اور ماہرینِ اوشینوگرافی کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کی بنیادی وجہ ساحل سے سمندر کی طرف چلنے والی شدید تیز ہوائیں اور قدرتی طور پر آنے والا انتہائی مدوجزر (Low Tide) ہے۔ 

سائنسی اصطلاح میں اسے “ونڈ سیٹ ڈاؤن” (Wind Setdown) یا موسمیاتی مدوجزر کہا جاتا ہے، جب خشکی سے سمندر کی جانب مسلسل تیز ہوائیں چلتی ہیں تو وہ ساحلی سطح کے پانی کو کھلے سمندر کی طرف دھکیل دیتی ہیں، جب اس کا ملاپ معمول کے لو ٹائیڈ سائیکل سے ہوتا ہے تو سمندری پانی غیر معمولی حد تک پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ 

کیا واقعی نیا جزیرہ نمودار ہوا؟
سمندر کا پانی پیچھے ہٹنے کے باعث ‘ریسٹنگا ڈیل فارو’ (Restinga del Faro) نامی ایک قدیم اور مستقل چٹانی ساخت ڈوبنے کے بجائے سطح پر نمایاں ہو گئی  چونکہ یہ چٹانیں عام طور پر پانی کے نیچے چھپی رہتی ہیں اس لیے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے سمندر کے بیچ کوئی نیا جزیرہ ابھر آیا ہو۔ 

معمولات کی بحالی؛
موسمیاتی حالات میں تبدیلی اور مدوجزر کا سائیکل مکمل ہوتے ہی سمندر کا پانی چند گھنٹوں کے اندر اپنی معمول کی سطح پر واپس آ گیا۔

ماہرین نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بغیر سائنسی پس منظر کے پھیلنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں کیونکہ یہ واقعہ سونامی یا کسی عالمی تباہی کی علامت ہرگز نہیں تھا۔  
ؔیہ بھی پڑھیں :  ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری حکومتِ کی ترجیحات میں شامل ہے، اسحاق ڈار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں