
(ویب ڈیسک) بھارت نے ہرمز پار کرنے والے جہازوں میں بھارتی بحری عملہ کو تعینات کرنے سے روکنے کا حکم دے دیا۔
ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری مختلف بحری جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مغرب میں پھنسے ہوئے ہیں اور گزشتہ دنوں دو بھارتی اہلکار آبنائے ہرمز میں حملوں کی زد میں آنے والے جہازوں پر مارے جا چکے ہیں۔
دو بھارتی اہلکاروں کی بحری جہازوں پر ملازمت کے دوران آبنائے ہرمز میں ہلاک ہونے کی خبروں سے بھارت کے لاکھوں گھرانوں میں گہری تشویش پھیل گئی ہے جن کے افراد بحری جہازوں پر نوکریاں کرتے ہیں۔
اب بھارت کی حکومت نے بھارتی بحری جہاز وں کے مالکان اور آپریٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ خطے میں نئی دشمنیوں کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے سفر کرنے کے لئے بھارت سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کے سٹاف کو تعینات نہ کریں۔
“اگلے احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی بحری جہازوں کےعملہ کی تعیناتی نہیں کی جائے گی،” ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بدھ کو دیر گئے جاری کردہ ایک نوٹس میں کہا۔
نوٹس میں آبنائے اور اس کے آس پاس جہاز رانی پر کئی حالیہ ڈرون حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں دو بھارتی اہلکار مارے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھ لیں: امریکا نے ایرانی انفرااسٹرکچر پر حملہ کیا تو پورے خطے کا انفرااسٹرکچر تباہ کر دیں گے: ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر
حکومت کے مطابق، بھارت سمندری جہازوں کے سٹاف کا دنیا میں تیسرا سب سے بڑا سپلائر ہے، جہاں 300,000 سے زیادہ ملاح عالمی جہاز رانی کے بیڑے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں جہازوں کے کیپٹن سے لے کر خاکروب تک ہر سظح کے کارکن شامل ہیں۔
فارورڈ سیمینز یونین آف انڈیا کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق بحری جہازوں پر مزدوری کرنے والے 15,000 بھارتی بحری سٹاف اب بھی آبنائے ہرمز کے مغرب میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی ممالک سے تصادم نہیں چاہتے، امریکی حملے جاری رہے تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل سکتی ہے: ایران






