(ویب ڈیسک) فرانس میں ایک اب تک متنازعہ رہے موضوع “مرنے کے حق” پر غیر معمولی قانون سازی ہو گئی ہے۔ اب لاعلاج بیماریوں کے مریض اپنی مرضی سے مرنا چاہیں تو انہیں نہیں روکا جائے گا۔
پیرس میں فرانس کی پارلیمنٹ نے جان لیوا لاعلاج امراض کے مریض بالغ شہریوں کو موت کا آپشن دینے کا بل پاس کرلیا۔
فرانس کی پارلیمنٹ نے جان لیوا لاعلاج بیماریوں کے حامل بالغ افراد کے لیے موت کا آپشن (assisted-dying) فراہم کرنے کا جو بل پاس کیا ہے اس کے تحت کسی لاعلاج مرض کے مریض کو مرنے کی آپشن پر عملدرآمد کے لئے خاصی سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ تمام شرائط پوری ہونے کی صورت میں مرنے کی درخواست دینے والے مریض کو جان لینے والی دوا (ممکنہ طور پر زہر) فراہم کی جا سکے گی۔
اس بل میں یہ شامل کیا گیا ہے کہ اگر جان لیوا لاعلاج مرض کا مرنے کے لئے بتائی گئی تمام شرطیں پوری کرنے والا مریض خود مرنے کی دوا (زہر وغیرہ)استعمال کرنے کے قابل ہو گا تو وہ اسے خود استعمال کرے گ۔ اگر وہ بیماری کی وجہ سے ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تو اس صورت میں ڈاکٹر یا نرس اسے یہ دوا دیں گے۔
فرانس کے قانون کے مطابق اس آپشن سے صرف وہ بالغ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جو فرانس کے شہری ہیں یا وہاں کے قانونی رہائشی ہوں گے اور ان کو لاحق جان لیوا اور لاعلاج بیماری کے ایسے مرحلے میں ہوں گے جو انتہائی سنگین یا آخری سٹیج میں ہو۔
فرانس کی پالیمنٹ میں اس بل کی مخالفت میں 241ووٹ آئے جبکہ 291 ووٹ بل کی حمایت میں ڈالے گئے اور بل کو منظورکرلیا گیا۔ اس قانون کی حیثیت ابھی محض بل کی ہے۔ اس پر عمل شروع کرنے کے لیے اس کی فرانس کی آئینی کونسل سے منظوری ضروری ہے۔
آئینی کونسل اس قانون سازی کی منظوری دیتی ہے تو فرانس، نیدرلینڈز، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کے بعد پانچواں ملک ہو گا جو اپنے شہریوں کو جان لیوا لاعلاج مرض کی اذیت سے نجات حاصل کرنے کے لئے مرنے کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت دے گا۔
پارلیمنٹ میں بحث؛ سڑکوں پر احتجاج
اس متنازعہ موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کے دوران پیرس کی سڑکوں پر احتجاج ہوتا رہا۔ قانون کے مخالف اپنے دلائل کے ساتھ پلے کارڈ لے کر احتجاج کے لئے آئے اور قانون کے حامی، مرنے کو اپنا حق قرار دینے کے پلے کارڈز کے ساتھ سڑک پر احتجاج کیلئے آئے۔ بحث کے دوران پارلیمنٹ کے ارکان نے پر مغز بحثیں کیں، جب گنتی ہوئی تو لاعلاج مریضوں کو مرنے کی اجازت دینے کے حامی زیادہ نکلے۔


اب تک سبھی مہذب معاشروں میں عمومی تصور یہی ہے کہ زندگی کو ختم کرنا جرم ہے۔ کسی کی زندگی کو ختم کرنے کو قتل کہتے ہیں اور اپنی زندگی خود ختم کرنے کو خودکشی کہتے ہیں۔ ان دونوں جرموں کی ہر ملک کے قانون میں سزائیں مقرر ہیں اور قانون نافذ کرنے الے ادارے اپنی عملداری میں آنے والے علاقوں میں کسی کو ان جرائم کا ارتکاب کرنے نہیں دیتے۔
خود موت اختیار کر لینے assisted dyingکے عمل کی جتنی زیادہ وکالت کی جاتی رہی ہے اتنی ہی مخالفت بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس آپشن کے مخالف زندگی کو عظیم گفٹ قرار دیتے ہیں اور امید کو کسی صورت میں بھےی ترک کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس “سہولت” کے مخالف کہتے ہیں کہ آج تک لاعلاج مرض کا کل علاج دریافت ہو ہی جائے گا اور یہ کہ بیماری کی اذیت کو کم کرنے یا ختم کرنے کے ذرائع اختیار کرنا موت کو اختیار کر لینے سے زیادہ انسانیت پرست عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپنے بحری کارکنوں کو آبنائے ہرمز میں جانے والے جہازوں پر کام کرنےسے روک دیا






