7

ایران کے پاسداران انقلاب نے شام پر بھی حملہ کر دیا

(ویب ڈیسک) ایران نے امریکہ کے حملوں کا جواب دینے کے لئے اس مرتبہ شام اور اردن پر بھی حملے کر دیئے، قطر، کویت اور بحرین بھی ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے  28 فروری کو امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے شام کی حدود میں کہیں حملہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ امریکی فوج پر کیا گیا ہے جب کہ مذکورہ علاقہ سے امریکہ کی فوج فروری کے دوسرے ہفتے واپس جا چکی تھی۔

اردن پر بھی گزشتہ دو دن میں دو بار حملے ہوئے، قطر، بحرین، کویت پہلے بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ 

ایران کے پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والےسرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی جانب سے جمعے کو رپورٹ کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ایران کے پاسداران IRGC نے شام کے علاقہ التنف میں امریکی فوج پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں حملہ   ایرانشہر میں مہلک امریکی حملوں کا بدلہ ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ جس جگہ ایران نے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہاں امریکہ فوج کا کوئی اہلکار موجود ہی نہیں تھا۔

شام نے  التنف میں ایران کے حملوں کی نوعیت اور اس کے اثرات کے متعلق کوئی تفصیل  نہیں بتائی۔ البتہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس وقت ایک اعلان کیا اور  کہا کہ امریکی فوجی دستوں نے تو ایک دہائی سے زیادہ عرصے ک تک مقیم رہنے کے  بعد فروری میں سٹریٹجک التنف گیریژن کو چھوڑ دیا تھا، اس کا مقصد شام میں امریکی موجودگی کو کم سے کم کرنا تھا۔ 

امریکہ نے اللتف کا علاقہ  فروری کے پہلے اور دوسرے ہفتے کے درمیان چھوڑا تھا۔  

امریکی سینٹرل کمانڈ نے  12 فروری کو بتایا تھا  کہ امریکی فوجی دستوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد شام میں ایک سٹریٹجک فوجی چھاؤنی کو  دانستہ طور پر  خالی کر دیا ہے۔

التنف گیریژن میں امریکی فوجیوں کی توجہ بنیادی طور پر مشترکہ مشترکہ ٹاسک فورس آپریشن موروثی حل کے حصے کے طور پر  داعش (آئی ایس آئی ایس) کے خلاف کوششوں پر مرکوز تھی۔ پینٹاگون نے اپریل 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 میں داعش کو علاقہ میں شکست ہو چکنے کے بعد شام میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنا شروع کر دے گا۔

CENTCOM کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا، “امریکی افواج خطے میں پیدا ہونے والے ISIS کے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم دہشت گرد نیٹ ورک کی بحالی کو روکنے کے لیے پارٹنر کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔” امریکہ کی حفاظت کے لیے داعش پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔

12 فروری کو ہی  شام کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فوج نے اب امریکہ کے  تعاون سے التنف کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

امریکی حکام نے شام کے نئے صدر احمد الشارع کی حمایت میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، کیونکہ ان کی حکومت نے دسمبر 2024 میں بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی کامیاب کوششوں کے بعد شام پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ الشارع کے  اپنے سیاسی کردار کو بدلنے سے پہلے ایک وقت میں امریکہ انہیں دہشتگرد قرار دیتا تھا اور امریکہ نے ان کی گرفتاری پر بھاری انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔

  ا ب گزشتہ ہفتے ہی انقرہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شام کے صدر احمد الشارع کے ساتھ  ملاقات ہوئی ہے، اس سے پہلے الشارع نومبر میں وائٹ ہاؤس جا کر ٹرمپ سے ملے تھے، تب ٹرمپ کو اقتدار میں آئے کچھ ہی روز ہوئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  ایران پر حملوں کی چھٹی رات،  کمیونیکیشن ٹاور، سڑک کا پل، بوشہر، ایرانشہر، بندر عباس میں حملوں کی اطلاعات 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں