
(24 نیوز)دنیا بھر میں قحط سالی اور پانی کی شدید کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل میں امریکہ کی ریاست اوریگن کے ایک 13 سالہ طالب علم نے ایسی جدید مشین (چیمبر) تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہے۔
وٹ فورڈ مڈل سکول کے ہونہار طالب علم روئے کم کی اس منفرد ایجاد کا مقصد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ہے۔
اس اہم اور کارآمد تکنیک کے باعث روئے کم کا نام 2026 کے تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج کے ٹاپ 10 فائنلسٹس میں شامل کر لیا گیا ہے۔
یہ جدید مشین ایک خاص الیکٹرانک آلے کی مدد سے کام کرتی ہے جو بجلی ملنے پر ایک طرف سے گرم اور دوسری طرف سے بے حد ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
مشین کے اندر پہلے ہوا داخل کی جاتی ہے جسے تھوڑا گرم کرنے کے بعد پنکھے کے ذریعے ٹھنڈی سطح پر بھیجا جاتا ہے۔
جیسے ہی گرم ہوا اس ٹھنڈی جگہ سے ٹکراتی ہے تو ہوا میں موجود نمی کے قطرے پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں:جنوبی کوریا میں گرمی کا قہر، 16 افراد ہلاک
اس پانی کو ایک کیف کے ذریعے جمع کر کے نالی کی مدد سے پودوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس سسٹم میں مٹی کی نمی اور موسم کا حال بتانے والے سینسر بھی لگے ہیں جو یہ خود طے کرتے ہیں کہ پودوں کو کب اور کتنے پانی کی ضرورت ہے، تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔
آزمائش کے دوران اس مشین نے دو گھنٹے کے اندر 10 ملی لیٹر پانی تیار کیا، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی 135.8 گرام فی کلو واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔
روئے کم نے یہ پروجیکٹ زراعت کے سب سے بڑے مسئلے یعنی پینے اور آبپاشی کے پانی کی کمی کو حل کرنے کے لیے بنایا ہے۔
دنیا بھر میں کسان اب بھی بارشوں، زیر زمین پانی اور ندی نالوں پر انحصار کرتے ہیں جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے روز بروز کم ہو رہے ہیں۔
ایسے میں فضا سے پانی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے مزید تحقیق اور بہتری کی ضرورت ہوگی۔






