
(انور عباس) نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے عرب لیگ اور مسلم ممالک کے گروپ کے رکن وزرائے خارجہ کے ہمراہ اومان (اردن) میں یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس کے موقع پر سرکاری گروپ فوٹو میں شرکت کی۔
اسلام آباد میں وزارت خٓرجہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ گروپ فوٹو یروشلم کے حوالے سے منعقدہ وزارتی اجلاس کی سرکاری سرگرمیوں کا حصہ تھا۔
یہ سرگرمی دراصل مقبوضہ یروشلم اور مسجدِ اقصیٰ کی صورتحال پر مسلم امہ کے نمائندوں کا ایک مشترکہ اور متفقہ موقف اپنانے کے لیے منعقد کیا گیا ایک انتہائی اہم ہنگامی سفارتی اجلاس (Ministerial Meeting on Jerusalem) تھا۔
اجلاس کا بنیادی مقصد
یہ ہنگامی اجلاس اردن (Jordan) کی دعوت پر عمان میں بلایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مقبوضہ بیت المقدس اور مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی انتہا پسندوں کی حالیہ دراندازی اور وہاں کی تاریخی و قانونی حیثیت (Status Quo) کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف عرب لیگ اور مسلم ممالک کا مشترکہ سفارتی لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
پاکستان کی نمائندگی اور موقف
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس اجلاس میں پاکستان کی طرف سے شرکت کی۔ سرکاری گروپ فوٹو اور اس سرگرمی کا حصہ بن کر پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جدوجہد کی اصولی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف (یروشلم) ہو۔
اردن کی خصوصی اہمیت
یروشلم کے اسلامی اور مسیحی مذاہب کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کی تاریخی اور قانونی ذمہ داری (Custodianship) روایتی طور پر اردن کے شاہی خاندان کے پاس ہے۔ اردن نے پاکستان،عرب اور اسلامی دنیا کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کو سرجڑ کر بیٹھنے کی دعوت دی تھی۔
اس اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ نے اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم سے بھی ملاقات کی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مشاورت کی۔






