
(24نیوز) لاہور میں مال روڈ کے چیرنگ کراس چوک مال روڈ جماعت اسلامی کا دھرنا ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے مین جماعت اسلامی کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا دھرنے پر بیٹھے ہوئے کارکن اپنے عزائم پختہ رکھیں آپ 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لے کر بیٹھے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہم وزیر صحت سے پوچھتے ہیں کہ پمز ہسپتال میں فائر الارم کیوں نہیں۔ ہنگامی صورتحال کی صورت میں ہسپتال کے عملے نے کیا کیا۔پمز ہسپتال واقعہ میں صرف سیکرٹری کو معطل کرنا کافی نہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے الزام لگایا کہ قومی مجرموں نے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے، اب ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے 11 ہزار سکول اور سینکڑوں ہیلتھ یونٹس فروخت کر دئیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: کشمیر کی بساط پر پیپلز پارٹی کی خوبصورت چال، سردار مختار وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار
ایک مؤثر تحریک کا آغاز ہوچکا ہے نوجوان اسکا حصہ بن رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 3 ستمبر کو پورے ملک میں ہڑتال کرے گی۔ ہڑتال کامیاب کرنے کے لئے نوجوانوں کا، تاجروں کا اور پوری قوم کا ساتھ چاہیے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا، ہماری ہڑتال پر امن ہوگی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کریں۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ آئی پی پی کمپنیاں بند کریں۔ مہنگی بجلی سے تاجر صنعتکار سمیت ہر طبقہ پریشان ہے۔ہمارے دونوں مطالبات جائز ہیں۔ملک گیر ہڑتال کے بعد اسلام آباد مارچ کی کال دوں گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا، پنجاب کے مزدور کسان طلباء وکلا جب نکلیں تو سنمبھالے نہیں جائیں گے۔حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کر کے پچھے ہٹنا پڑے گا۔






