1

اسلام آباد میں صرف دو بڑے ہسپتال ہونا، وزیراعظم سمیت سب حکمرانوں کی غلطی ہے:ساجدہ خان

(انور عباس)سابق رکن قومی اسمبلی ساجدہ خان نے کہا ہے کہ پمز کے چلڈرن وارڈ میں 2 روز پہلے یہ واقعہ ہوا، یہاں جتنا عملہ ہے وہ اس سانحہ کا ذمہ دار ہے، میں سانحہ کا سن کر پشاور سے یہاں آئی ہوں۔

 سابق رکن قومی اسمبلی ساجدہ خان نےپمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھوٹے معصوم فرشتے بچے تھے جو جان سے گئے،اسلام آباد میں صرف دو بڑے ہسپتالوں موجودگی وزیراعظم، صدر اور سب حکمرانوں کی غلطی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں میری والدہ یہاں داخل رہ چکی ہیں، اس لئے مجھے یہاں کی صورتحال کا اندازہ ہے،انتظامیہ کہتی ہے کہ بچے چوری ہوتے ہیں اسلئے تا ہے لگائے تھے اگر بچے چوری ہوتے ہیں تو انتظامیہ خود کس لئے ہے۔

ساجدہ خان نے کہا کہ تالے لگانے کی بجائے اس کا کچھ اور انتظام کر لینا چاہیے تھا، جو ہیلتھ کارڈ تھا وہ کہاں گیا، نہ یہاں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں نہ یہاں مشینیں درست ہیں، یہی ڈاکٹر اپنے نجی کلینکس پر کام کرتے ہیں تو ذمہ داری سے کرتے ہیں۔

سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ میرا ذہن نہیں مانتا کہ کیسے وارڈ میں آگ لگ گئی، انکوبیٹرز کے اندر کیسے اگ گئی یہ ناممکن ہے،اب صحت اور تعلیم کے نظاموں کو ٹھیک کتنا ضروری ہے،اب اس ظلم اور زیادتی کو بند ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ یہاں غریبوں کے لئے مفت ادویات کا نظام ایک عرصہ سے بند ہے، چار برس سے مفت ادویات نہیں مل رہیں،ایمرجنسی میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، پمز اور پولی کلینک سے پشاور کے ہسپتالوں کی حالت قدرے بہتر ہے،میں اندر جانے لگی تو مجھے پولیس نے داخل نہیں ہونے دیا۔

ساجدہ خان نے کہا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی اتنی دیر سے اجلاس منعقد کر رہی ہے آخر اتنی دیر کیوں؟انہیں فوری اجلاس طلب کرنا چاہتے تھا۔

یہ بھی پڑھیں :بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں