6

برطانیہ میں کاروباری حلقوں  نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا!

(ویب ڈیسک )برطانیہ کے نئے وزیر اعظم سے کاروباری اور توانائی کے شعبے نے مطالبہ کیا ہے کہ معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے کاروباری اداروں پر عائد توانائی ٹیکس اور لیویز میں کمی کی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے نمایاں کاروباری گروپ کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری (CBI) اور توانائی کے شعبے کی نمائندہ تنظیم Energy UK نے کہا ہے کہ توانائی کے بلند اخراجات کے باعث تقریباً 40 فیصد کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کم کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بجلی کی قیمتیں جی سیون ممالک کی اوسط سطح سے تقریباً 45 فیصد زیادہ ہیں، جس سے صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

دونوں تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری بجلی کے بلوں میں شامل رینیوایبلز آبلیگیشن اور فیڈ اِن ٹیرف کے اخراجات ختم کیے جائیں، جبکہ نان ڈومیسٹک بجلی بلوں پر عائد کلائمیٹ چینج لیوی بھی ہٹائی جائے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستانی نوجوانوں نے گھر بیٹھے ملک کو اربوں ڈالرز کیسے لا کر دئیے؟

ان اداروں کے مطابق ان اقدامات سے کاروباری توانائی کے اخراجات میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی نظام کی لاگت کم کرنے اور معیشت کو بجلی پر منتقل کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سی بی آئی کی چیف اکانومسٹ لوئز ہیلم نے کہا کہ اگر برطانیہ کو مہنگائی، معیار زندگی کے مسائل اور عوامی خدمات میں بہتری کے چیلنجز سے نمٹنا ہے تو مضبوط معاشی ترقی ضروری ہے، لیکن بلند توانائی بلوں کے باعث کاروبار مشکلات کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ٹریڈز یونین کانگریس نے تجویز دی ہے کہ بینک منافع پر ٹیکس بڑھا کر زیادہ تر گھریلو صارفین کے توانائی بلوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں