
( ویب ڈیسک )برطانیہ کے بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن میں تاخیر کے باعث صارفین کے لیے مختصر مدت میں اخراجات میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے نیشنل آڈٹ آفس (NAO) نے جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ملک کے بجلی کے ترسیلی گرڈ کی متعدد اپ گریڈیشنز مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
برطانوی توانائی کے ریگولیٹر آفجیم کے اندازے کے مطابق 2025 سے 2031 کے دوران بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 70 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری درکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب بجلی پیدا کرنے والی جگہوں سے اسے ضرورت والی جگہوں تک منتقل کرنے کے لیے گرڈ کی صلاحیت ناکافی ہوتی ہے تو نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر (NESO) بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کرتا ہے۔ اس عمل میں بعض اوقات گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو چلانے جبکہ بعض گیس پلانٹس یا ونڈ فارمز کو پیداوار کم یا بند کرنے کے لیے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے!
2025-26 کے دوران گرڈ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو تقریباً 1.9 ارب پاؤنڈ ادا کیے گئے۔
نیشنل آڈٹ آفس کے مطابق اگر گرڈ اپ گریڈیشن کے منصوبوں میں تیزی نہ لائی گئی تو یہ اخراجات 2030 تک بڑھ کر 6.6 ارب سے 7.8 ارب پاؤنڈ سالانہ تک پہنچ سکتے ہیں، کیونکہ اسی دوران بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت بھی نظام میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر کے مطابق 2030 تک گرڈ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 88 منصوبے درکار ہیں، تاہم نیشنل آڈٹ آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 64 منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک مکمل نہیں ہو سکیں گے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2030 تک تمام گرڈ اپ گریڈیشن منصوبوں کی تکمیل ایک انتہائی مشکل ہدف ہے، جبکہ منصوبہ بندی، سپلائی چین اور نظام تک رسائی سے متعلق اہم خطرات بھی برقرار ہیں۔ بعض منصوبوں کی تکمیل پہلے ہی 2030 کے بعد تک متوقع ہے۔
نیشنل آڈٹ آفس کے مطابق اس صورتحال کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت گرڈ کی ضروری اپ گریڈیشن مکمل ہونے سے پہلے ہی نظام سے منسلک ہوجائے، جس سے بجلی کی ترسیل اور گرڈ میں توازن برقرار رکھنے کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔






