
(ویب ڈیسک)جنگ بندی معاہدے کے خاتمے اور ایران امریکا میں بڑھتی کشیدگی کے بعد کیا اب بھی ایرانی ریال خریدنا مفید ہوگا۔
ایران اور امریکا میں ساڑھے چار ماہ سے جاری کشیدگی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ حالیہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران دونوں ممالک میں مذاکرات اور جنگ بندی معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا، جس کے باعث پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے ایرانی ریال خرید کر چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی۔
تاہم ایرانی ریال کے خریدار اب سوچ رہے ہیں کہ کیا بڑھتی کشیدگی کے بعد ایرانی ریال کی مالیت گرے گی اور کیا وہ خریدے گئے ریال نقصان ہونے سے پہلے بیچ دیں۔
ایسے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے خبر یہ ہے کہ ایران اور امریکا میں حالیہ کشیدگی اور دونوں پر ایک دوسرے پر حملوں کے باوجود ایرانی کرنسی قدرے مضبوط ہے۔
سینٹرل بینک آف ایران (سی بی آئی) کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، آبنائے ہرمز کی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ جاری حملوں کے باوجود ایرانی کرنسی قدرے مضبوط ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے کسی بیرونی لیبر کی ضرورت نہیں: ابراہیم رضائی
آج کی سرکاری شرح مبادلہ کے مطابق 100 پاکستانی روپے تقریباً 487,555 ایرانی ریال (IRR) کے بدلے ہوں گے۔
اوپن مارکیٹ میں، ایک کروڑ (10 ملین) ایرانی ریال پر مشتمل ایک پیکٹ 7,500 سے 8,000 پاکستانی روپے میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ تاہم کراچی، کوئٹہ اور دوسرے بڑے شہری مراکز کے درمیان اس کی قیمت مختلف ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی شرح مبادلہ 13 لاکھ 55 ہزار 322 ریال جب کہ ایک پاؤنڈ کے مقابلے میں 18 لاکھ 16 ہزار 433 ریال ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر 28 فروری کو اسرائیل اور امریکی حملوں سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال کی پاکستانی کرنسی میں مالیت صرف دو ہزار روہے کے لگ بھگ تھی۔






