
(24 نیوز)جرمنی نے یورپی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف سائبر مہم چلانے کے الزامات کے بعد روسی سفیر کو طلب کر لیا، جرمن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جرمنی، یورپی یونین کے شراکت داروں اور یوکرین کے خلاف سائبر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔
جرمن وزارتِ خارجہ کے مطابق روس کی جانب سے کیے جانے والے سائبر حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ جرمنی کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ، 2022 میں بھی جرمن حکام نے خبردار کیا تھا کہ توانائی کے بحران اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جرمن معاشرے میں پیدا ہونے والے انتشار کو مزید ہوا دے کر روس جرمنی میں سماجی بے چینی کو پھیلانے کا حربہ استعمال کر سکتا ہے۔
خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب موسم سرما کی آمد قریب ہے۔ اس کے لیے روس آن لائن ”ڈس انفارمیشن‘‘ کا سہارا لے رہا ہے۔ ریسرچرز نے بھی کہا ہے کہ جرمن حکام کا اس بارے میں خبردار کرنا منطقی ہے کیونکہ ان کے پاس ایسا کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔
اس بارے میں وفاقی جرمن پارلیمان کے ایک نگراں پینل، جو جرمنی کی قومی خفیہ سروسز کے کاموں کی نگرانی بھی کرتا ہے کے سربراہ کونسٹانٹین فان نوٹس نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت میں کہا، ”حالات بہت سنگین ہیں۔
کونسٹانٹین ماحول پسند گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ہیں۔ گرین پارٹی کے سیاستدانوں، اعتدال پسند بائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹ لیڈر اور موجودہ چانسلر اولاف شولس نے لبرل فری ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جرمنی کی حکمران مخلوط حکومت تشکیل دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاپوا نیوگنی کےشہر لورینگاؤ میں 6.3 شدت کا زلزلہ






